حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 376 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 376

حیات احمد جلد سوم ظاہر ہوتی ہے ایسا ہی مولوی عبداللہ خاں صاحب نے اپنے اعلان کے ذریعہ ایک غلط فہمی کو دور کیا جو اشاعۃ السنہ میں ان کے نام سے پیدا ہوتی تھی چنانچہ انہوں نے اشتہار دیا۔اگر کوئی جگہ حضور کے رسالہ میں خالی ہو دے تو یہ اشتہار مندرجہ ذیل میرے مکرم وشفیق استاد کا طبع فرما کر ممنون فرمائیں اشتہار جو فتوی بحق امامنا۔مخدومنا۔مسیحنا و مسیح الدنیا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا ہے اس کے علماء پٹیالہ کی فہرست میں میرے بعض احباب نے میرے ہمنام مولوی عبداللہ بٹالوی کے نام کو میرا نام خیال کیا ہے اور بعض نے دریافت کے لئے میرے نام عنایت نامجات بھی ارسال فرمائے ایڈیٹر اشاعۃ السنه بقیہ حاشیہ۔میری طرح کھلے اشتہار دے کہ میں حسب دعوت فیصلہ آسمانی تمہارے مقابل پر آیا ہوں۔اور میں فلاں ابن فلاں ہوں۔اگر اس اشتہار کے شائع ہونے اور میرے پاس پہنچائے جانے کے بعد میں خاموش رہا تو جس قدر الفاظ آپ نے اپنے اس خط میں لکھے ہیں کہ ” حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو صاف باطن دغل باز نہیں ہوتے۔یہ سارے الفاظ آپ کے میری نسبت صحیح ٹھہریں گے ورنہ دشنام دہی سے زیادہ نہیں۔جب انسان کی آنکھ بند ہو جاتی ہے تو اس کو روزِ روشن بھی رات ہی معلوم ہوتی ہے۔اگر آپ کی آنکھ میں ایک ذرہ بھی نور باقی ہوتا تو آپ سمجھ لیتے کہ حیلہ بہانہ کون کرتا ہے۔کیا وہ شخص جس نے صاف طور پر دو ہزار اشتہار تقسیم کر کے ایک دنیا پر ظاہر کر دیا کہ میں میدان میں کھڑا ہوں کوئی میرے مقابل پر آوے یا وہ شخص کہ چوروں کی طرح غار کے اندر بول رہا ہے۔جو لوگ حق کو چھپاتے ہیں خدا تعالیٰ کی اُن پر لعنت ہے۔پس یہ صوفی اگر در حقیقت کوئی انسان ہے تو محمد حسین کی ناجائز وکالتوں کے بُرقع میں مخفی نہ رہے اور خدا تعالیٰ کی لعنت سے ڈرے۔اگر اس کے پاس حق ہے تو حق کو لے کر میدان میں آ جائے۔جبکہ مجھے کو کوئی معین شخص سامنے نظر نہیں آتا تو میں کس سے مقابلہ کروں۔کیا مردہ سے یا ایک فرضی نام سے۔اور آپ کو یادر ہے کہ میری نظر میں یہ صوفی ایک خارجی وجود رکھتا تو میں جیسا کہ میرے پر ظاہر ہوتا اس کے مرتبہ کے لحاظ سے باخلاق اس سے کلام کرتا مگر جبکہ میری نظر