حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 373
حیات احمد ۳۷۳ جلد سوم اس میں شک ہے تو وہ لاہور میں ایک جلسہ منعقد کر کے ہم سے ثبوت مانگیں۔تاسیہ روئے شود ہر کہ در دغش باشد۔یوں تکفیر کوئی نئی بات نہیں۔ان مولویوں کا آبائی طریق یہی چلا آتا ہے کہ یہ لوگ ایک بار یک بات سُن کر فی الفور اپنے کپڑوں سے باہر ہو جاتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ عقل تو ان کو دی ہی نہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچیں اور اسرار غامضہ کی گہری حقیقت کو دریافت کر سکیں اس لئے اپنی نافہمی کی حالت میں تکفیر کی طرف دوڑتے ہیں۔اور اولیاء کرام میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ ان کی تکفیر سے باہر رہا ہو۔یہاں تک کہ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ جب مہدی موعود آئے گا تو اس کی بھی مولوی لوگ تکفیر کریں گے۔اور ایسا ہی حضرت عیسی جب اتریں گے تو ان کی بھی تکفیر ہو گی ان باتوں کا جواب یہی ہے کہ اے حضرات آپ لوگوں سے خدا کی پناہ اور سُبحَانَہ خود اپنے برگزیدہ بندوں کو آپ لوگوں کے شر سے بچاتا بقیہ حاشیہ۔کیا نا حق آپ نے کلمات گستاخانہ صوفی صاحب کی نسبت لکھ کر ارتکاب عصیاں کیا سو آپ کو اس سے کیا بحث ہے۔آپ کو اپنے دعوئی کے موافق طیار ہونا چاہئے۔مولوی محمد حسین صاحب خود ذمہ وار ہیں۔فوراً مقابلہ پر موجود کر دیں گے۔لہذا اب آپ ٹلا ئیں نہیں مرد میدان نہیں اور صاف لکھیں کہ فلاں وقت اور فلاں جگہ پر موجود ہو کر سلسلہ آزمائش و اظہار کرامت متد عویہ شروع کیا جائے گا۔یہ عاجز بصد بجز و نیاز عرض کرتا ہے کہ آپ اپنے دعوی میں اگر سچے ہیں تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔میدان میں آؤ۔دیکھو یا دکھاؤ۔صاف باطن لوگ دغا باز نہیں ہوتے حیلہ بہانہ نہیں کرتے۔برکات آسمانی والے کمیٹیاں مقرر کیا کرتے ہیں۔رجسٹر کھلوایا کرتے ہیں اس قسم کی کارروائی صرف دھوکہ دینا اور دفع الوقتی پر مبنی ہے۔افسوس صد افسوس، اللہ سے ڈرو اور قیامت پر نظر رکھو۔ایسی مریدی پیری پر خاک ڈالو۔جس مطبع میں آپ اپنا مضمون چھاپنے کے لئے بھیجیں اس عاجز کے مضمون کو بھی زیر قدم چھاپ دیں۔عریضہ نیاز۔میر عباس علی از لدھیانہ۔روز دوشنبه - ۹ رمئی ۱۸۹۲ء مکتوبات احمد جلد اصفحه ۶۴۱،۶۴۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء)