حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 369 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 369

حیات احمد خط و کتابت متعلق آسمانی فیصلہ ۳۶۹ جلد سوم لودھانہ کے اس قیام میں صوفی عباس علی نے حضرت سے خط و کتابت کی اور یہ خط و کتابت آسمانی فیصلہ کے سلسلہ میں تھی۔حضرت اقدس اپریل کے آغاز یا مارچ کے اواخر میں لودھانہ تشریف لے آئے تھے مئی کے آغاز میں میر عباس علی صاحب نے آپ کی خدمت میں خط لکھا آپ نے اس کا جواب دیا اور پھر جیسا کہ خط و کتابت کے پڑھنے سے معلوم ہوگا۔حضرت نے آخری خط ۹ رمئی ۱۸۹۲ء کو لکھا اور اس کے بعد صوفی صاحب اور شیخ بٹالوی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ میدان میں آتے یہ خط و کتابت بطور ضمیمہ اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ مورخہ ۱۲ رمئی ۱۸۹۲ء میں شائع ہو گئی اس وقت تک بٹالوی صاحب کا فتویٰ کفر شائع ہو گیا تھا۔اور مکفرین کو بڑا ناز تھا کہ ہمارے اس آخری حربہ سے سلسلہ عالیہ کی ترقی کو روک دیں گے بلکہ وہ اپنی مجلسوں میں یہ کہتے تھے کہ اب سلسلہ کو مٹا دیا جائے گا۔ا حاشیہ۔یہ خط و کتابت اگر چہ نشان آسمانی میں شائع ہو چکی ہے مگر قریب الفہم کرنے کے لئے یہاں بھی درج کرتا ہوں۔از جانب عباس علی۔بخدمت مرزا غلام احمد قادیانی عرض ہے کہ جواب فیصلہ آسمانی مندرجہ الشـاعة السـنــه صفحه ۵۱ جو ایک صوفی صاحب بالمقابل آپ سے بموجب آپ کے وعدے کے کرامت دیکھنے یا دکھلانے کی درخواست کرتے ہیں۔بھیج کر التماس ہے کہ آپ کو اس میں جو کچھ منظور ہو تحریر فرما دیں کہ اس کے موافق عمل درآمد کیا جاوے اور مضمون صفحہ ۵۱ بغور ملاحظہ ہو کہ فریق ثانی آپ کے عاجز ہونے پر کام شروع کرے گا۔الراقم عباس علی از لودها نه ۶ رمئی ۱۸۹۲ء الــجـــــــواب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى ائما بعد بخدمت میر عباس علی صاحب واضح ہو کہ آپ کا رقعہ پہنچا۔آپ لکھتے ہیں کہ جو ایک صوفی صاحب بالمقابل آپ سے بموجب آپ کے دعوئی کے اشاعۃ السنہ میں کرامت دیکھنے یا دکھلانے کی درخواست