حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 368
حیات احمد ۳۶۸ جلد سوم اظہا ر فر مایا اور نہ صرف یہ بلکہ آپ کے بعد سلسلہ کی ترقیات جس ہاتھ پر ہونے والی تھیں اس کا بھی ذکر کیا ، فرماتے ہیں۔ا ح م و دال مے خوانم نام آن نام دار می بینم صورت و سیرتش چو پیغمبر علم و حلمش شعار می بینم مهدی وقت و عیسی دوران هر دو را شہسوار می بینم اور پھر اس سلسلہ میں فرمایا :۔دور او چول شود تمام به کام پسرش یادگار می بینم یہ ایک لمبا قصیدہ ہے اس کی اشاعت پر مخالف طبقہ میں پھر ایک جوش پیدا کیا بعض نے کہا یہ جعلی ہے اور کسی نے اس کا مصداق کسی اور کو بنانے کی کوشش کی مگر خاک ڈالنے سے چاند چھپ نہیں سکتا جس قدر اعتراض ہوتے گئے اسی قدر اس کی صداقت نمایاں ہوتی گئی۔نشان آسمانی میں اس کی تفصیل موجود ہے یہ کتاب آپ نے لودھانہ میں تصنیف کی تھی۔اور قادیان آنے کے بعد ایک ہفتہ کے اندر اس کی اشاعت وقوع میں آئی چنانچہ اس کی تاریخ اشاعت ۲۶ رمئی ۱۸۹۲ ء ہے۔قیام لودھانہ اور میر عباس علی صاحب میر عباس علی صاحب کا ذکر متعدد مرتبہ آ رہا ہے اس کا ذکر ایک مخلص فی الدین اور براہین احمدیہ کے آغاز میں اول المعاونین کے طور پر آیا۔جیسے اس زمانہ میں مولوی محمد حسین ایک صادق خادم کی حیثیت میں نظر آتے ہیں اور بالآخر مولوی محمد حسین صاحب پہلے اول الکافرین ہوئے اور انہوں نے اپنا یہ اثر عباس علی پر ڈالا اور وہ اپنے مقام سے گر گیا۔آسمانی فیصلہ کی اشاعت پر محمد حسین نے اس کو اکسایا کہ وہ مقابلہ پر آئے اور رسول نمائی کے ادعا سے اور ایک صوفی وصافی کے طور پر پیش کیا حضرت اقدس نے جواباً لکھا کہ۔یا صوفی خویش را بروں آر ترجمہ۔یا تو اپنے صوفی کو باہر نکال۔یا پھر بد گمانی سے تو بہ کر۔یا توبه کن ز بدگمانی *