حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 367
حیات احمد ۳۶۷ جلد سوم جالندھر میں آریہ سماج کی طرف سے کسی قسم کی تحریک مقابلہ یا مباحثہ نہیں ہوئی البتہ بعض وجودی طبع لوگ آ کر کبھی سوال کرتے مگر وہ حضرت کے دعاوی پر نہیں اس لئے کہ وہ تو سب کو خدا ہی سمجھتے تھے وقتاً فوقتاً مختلف مجلسی تقریریں بھی ہو جاتی تھیں۔قیام اودھانہ اور آسمانی فیصلہ لاہور۔سیالکوٹ۔کپورتھلہ۔جالندھر اور لودھانہ کے سفر میں قریباً پانچ مہینے گزر گئے۔لودھانہ کے قیام میں آپ نے نشانِ آسمانی تالیف فرمایا۔آسمانی فیصلہ میں تو آپ نے اُن علامات اور نشانات کا ذکر فرمایا جو قرآن کریم نے بطور معیار بَيْنَ الْمُؤمنين والكافر مقرر فرمائے ہیں۔اور نشان آسمانی میں آپ نے اس امر کی طرف توجہ کی کہ شَهَادَتُ الْمُلْهِمِيْن آپ کے متعلق کیا ہے؟ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جو بشارات آپ کے متعلق دی تھیں اور جو علامات آپ کے ظہور کے لئے مقرر فرمائی تھیں ان کا ظہور ہو گیا۔لیکن اولیاء امت نے اپنے کشوف اور الہامات میں بھی آپ کے دعوی کی صداقت کے متعلق کچھ بیان کیا ہے؟ اس مقصد کے آپ نے یہ رسالہ قیام لودھانہ میں تصنیف فرمایا اس میں سائیں گلاب شاہ کی پیشگوئی کے علاوہ شاہ نعمت اللہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کے مشہور عام قصیدہ کو بطور پیشگوئی آپ کی صداقت میں پیش کیا ہے۔اور آپ نے واقعات کی روشنی میں نشان آسمانی میں اس کی شرح فرمائی اس قصیدہ کے متعلق خود حضرت نعمت اللہ صاحب نے اس کو الہامی قصیدہ قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا قدرت کردگار می بینم حالت روزگار می بینم از نجوم این سخن نے گوئم بلکه از کردگار می بینم اس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعات عالم ان کو کشفی رنگ میں دکھائے گئے اور انہوں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ان واقعات کا انکشاف کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کا