حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 366 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 366

حیات احمد ۳۶۶ جلد سوم کے ساتھ تھے اس نے نہایت اخلاص سے ہر قسم کے مکلف کھانے تیار کرائے اور خود ہاتھ دھلانے پر آمادہ ہوا بعض دوستوں نے کہا بھی کہ ہم ہاتھ دھلا دیتے ہیں مگر اس نے کہا کہ میری نجات کا سامان ہونے دو۔چنانچہ خود ہاتھ دھلائے کھانا کھا چکنے کے بعد پھر ہاتھ دھلائے۔حضرت نے اس کی درخواست پر دعا کی۔جالندھر کے قیام کے سلسلہ میں حضرت منشی عبدالرحمن صاحب نے ایک عجیب واقعہ تحریر کیا جو الحکم ۷ نومبر ۱۹۳۴ء کے صفحہ ۴ پر درج کیا تھا تکمیل حالات کے لئے یہاں درج کرتا ہوں۔حضور کپورتھلہ سے جالندھر تشریف لے گئے اور بارہ تیرہ روز وہاں مقیم رہے جالندھر میں مخالفت کا بڑا زور تھا بعض لوگوں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس سے جو انگریز تھا شکایت کی کہ ایک شخص قادیان سے آیا ہوا ہے وہ کہتا ہے میں مسیح موعود ہوں۔اس کے قیام سے یہاں فساد کا اندیشہ ہے۔آپ اسے حکم دیں وہ یہاں سے چلا جائے۔اس شکایت کی بناء پر وہ انگریز آفیسر علی الصباح حضور کی قیام گاہ پر آیا۔بہت سے مخلص جمع تھے۔حضور نے اس کے واسطے کرسی منگائی اور دوسری کرسی پر خود تشریف فرما ہوئے۔انگریز افسر نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے آئے ہیں حضور علیہ السلام نے ایک لمبی تقریر فرمائی وہ خاموش سنتا رہا اور اس قدر متاثر ہوا کہ بار ہار اس کے منہ سے سبحان اللہ ، سبحان اللہ نکلتا تھا۔حضور کی تقریر کے بعد اس نے کہا کہ ” جب تک آپ کی مرضی ہو قیام فرما ئیں کوئی شخص آپ سے فساد کرنے نہ پائے گا یہ کہہ کر اور سلام کر کے واپس چلا گیا۔“ جالندھر جود و آبہ لسبت جالندھر کا مرکزی شہر ہے اور آج کل تو وہ مشرقی پنجاب کا ایک بہت بڑا شہر ہے اس وقت مذہبی جماعتوں کا بھی مرکز تھا۔دوآبہ لسبت جالندھر میں وحدت وجود کے مسئلہ کا بڑا زور تھا۔اور پرانے زمانے کے پیر اور مشایخ اسی قسم کی تعلیم دیتے تھے۔آریہ سماج کے بڑے مشہور و معروف لیڈرمنشی رام صاحب جو بعد میں سوامی شرد ہانند کے نام سے موسوم ہوئے اور گورو کل کانگڑی کے بانی اور جالندھر بار کے ممتاز وکیل تھے۔ان کا ہیڈ کوارٹر بھی یہی تھا اور دراصل آریہ سماج میں اس عہد کے لیڈروں میں دوآبہ ہی کا بڑا دخل تھا۔مگر