حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 363
حیات احمد ۳۶۳ جلد سوم اور دوسری مرتبہ کے متعلق حضرت عبدالرحمن صاحب فرماتے ہیں۔وو دوسری دفعہ تین دن رہے اور علی گوہر صاحب افسر ڈاک خانہ کے مکان پر ٹھہرے اس وقت بیعت شروع ہو چکی تھی اور تیسری دفعہ جب تشریف لے گئے تو مسیحیت کا دعویٰ فرما چکے تھے اس دفعہ پندرہ روز ٹھہرے۔میاں سردار خاں صاحب نے اپنا مکان خالی کر دیا تھا۔جس میں حضور ٹھہرے تھے۔ایک روز کا ذکر ہے۔جبکہ حضور تیسری بار تشریف لائے تھے کہ میرا نواسہ حافظ محمود الحق مکان کی بالائی سیڑھی سے گر کر لڑکھتا ہوا نیچے تک آیا۔حضور سے کسی نے عرض کیا کہ ان کا نواسہ اوپر کے مکان سے نیچے آپڑا ہے۔حضور نے فرمایا اُس کو چوٹ نہیں لگی اُسے لے آؤ دیکھا تو واقعی اُسے کوئی چوٹ نہیں لگی۔“ حضرت منشی علی گوہر صاحب رضی اللہ عنہ سَابِقُونَ الاَوَّلُون میں سے تھے اور جالندھر کے رہنے والے تھے جیسا کہ ذکر ہوا آپ محکمہ ڈاک خانہ میں ملازم تھے براہین کی تالیف کے زمانہ سے تعلق تھا اور یہ تعلق حضرت چودہری رستم علی صاحب کے ذریعہ ہوا تھا۔جب کہ وہ جالندھر میں متعین تھے۔66 کپورتھلہ سے جالندھر کپورتھلہ میں دو ہفتہ کے قریب قیام فرما کر آپ جالندھر تشریف لے گئے۔اس وقت تک کپورتھلہ میں ریل نہ آئی تھی۔حضور نے کرتا پور تک بگھیوں میں سفر کیا۔ریاست کا بگھی خانہ حضرت منشی محمد خاں صاحب کے زیر اقتدار تھا۔کرتا ر پور سے بعض احباب حضرت منشی ظفر احمد اور حضرت منشی عبد الرحمن صاحب وغیرھم جالندھر چلے گئے اور دوسرے احباب بھی برابر آتے جاتے رہے۔سید ھے کپورتھلہ سے جالندھر آتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب لکھتے ہیں کہ " آپ نے معمولی راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ جالندھر کا قصد کیا“ ان کا مطلب یہ ہے کہ قادیان کو آنے کی بجائے جالندھر چلے گئے۔یہ غلط اور بے معنی بات