حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 33
حیات احمد ۳۳ جلد سوم بیویاں ایسے معاملات میں بباعث ضعف فطرت بدظنی کو انتہا تک پہنچا کر اپنی زندگی اور راحت کا خاتمہ کر لیتی ہیں۔وَحْدَهُ لا شَرِيك ہونا خدا کی تعریف ہے۔مگر عورتیں بھی شریک ہرگز پسند نہیں کرتی ہیں۔ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میرے ہمسایہ میں ایک شخص اپنی بیوی سے بہت کچھ سختی کیا کرتا تھا اور ایک مرتبہ اس نے دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کیا تب اس بیوی کو نہایت رنج پہنچا اور اس نے اپنے شوہر کو کہا کہ میں نے تیرے سارے دکھ ہے۔مگر یہ دکھ نہیں دیکھا جاتا کہ تو میرا خاوند ہو کر اب دوسری کو میرے ساتھ شریک کرے وہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس کلمہ نے میرے دل پر نہایت دردناک اثر پہنچایا میں نے چاہا کہ اس کلمہ کے مشابہ قرآن شریف میں پاؤں۔سو یہ آیت مجھے ملی يَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِك الآية یہ مسئلہ بظاہر بڑا نازک ہے دیکھا جاتا ہے کہ جس طرح مرد کی غیرت نہیں چاہتی کہ اس کی عورت اس میں اور اس کے غیر میں شریک ہو۔اسی طرح عورت کی غیرت بھی نہیں چاہتی کہ اُس کا مرد اُس میں اور اُس کے غیر میں بٹ جاوے۔مگر میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں نقص نہیں ہے اور نہ وہ خواص فطرت کے برخلاف ہے اس میں پوری تحقیق و کامل غیرت ہے جس کا انفکاک واقعی لا علاج ہے۔مگر عورت کی غیرت کامل نہیں مشتبہ اور زوال پذیر ہے۔اس میں نکتہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنھا کو فرمایا تھا نہایت معرفت بخش نکتہ ہے۔کیونکہ جب حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنھا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست نکاح پر عذر کیا کہ آپ کی بہت بیویاں ہیں اور آئندہ بھی خیال ہے اور میں ایک عورت غیرت مند ہوں جو دوسری بیوی کو دیکھ نہیں سکتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تیرے لئے دعا کروں گا تا خدا تعالیٰ تیری یہ غیرت دور کر دے اور صبر بخشے۔سو آپ بھی دعا میں مشغول رہیں۔نئی بیوی کی دلجوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اوّل النساء: ۱۷