حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 341 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 341

حیات احمد ۳۴۱ جلد سوم آ رہا تھا اور مکان کے باہر اس نے اپنی تقریر شروع کر دی یہ شخص ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں کا رہنے والا تھا اور اس کا بھائی جو پیغمبر اسنگھ کے نام سے ہماری جماعت میں مشہور مخلص تھا آخر احمدی ہو گیا تھا۔اُس نے لاہور ہی کی ایک مجلس میں حضرت اقدس پر پھول برسائے اور اپنے اس بھائی کے لئے معافی مانگی پیغمبر اسنگھ کو بھی ایک زمانہ میں یہ دعویٰ تھا کہ وہ لوگوں کے گرو رام سنگھ کا اوتار ہے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اُس پر حقیقت اسلام واضح کر دی اور وہ ایک متقی اور مخلص احمدی بنا۔اور خاکسار عرفانی سے وہ محبت رکھتا تھا۔حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی کی آمد لا ہورہی میں اوائل فروری ۱۸۹۲ء میں حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امرو ہی تشریف لائے اس وقت اگر چہ وہ پیرانہ سالی میں داخل تھے مگر تنومند اور نہایت چست اور محنت کے عادی تھے۔ان کے رسائل اغلامُ النَّاس وغیرہ کی وجہ سے جماعت میں ان کے لئے جذبات احترام تھے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی اُن کے عہدِ اہلِ حدیث کی تالیفات کے مداح تھے مگر اب انہیں مولوی کی بجائے منشی کہتے ہیں۔م حاشیہ۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی ایک فاضل عالم دین تھے اور اس عہد کے علمائے اہلِ حدیث میں ایک ممتاز شخصیت کے تھے نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالی کے مقرب علماء کی صف میں ان کا مقام تھا۔انہوں نے بڑی قربانی کر کے سلسلہ کو قبول کیا۔ملازمت گئی اور ان کی اہلیہ بھی اُن سے الگ ہو گئی۔حضرت ان کو محبت اور عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔آخر عمر میں افسوس ہے ان سے خلافت ثانیہ کی بیعت کے با وجود ایک لغزش ہو گئی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ اپنے اہل وعیال کے فتنہ سے مجبور ہوئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے تو بہ کر لی تھی۔وَاللهُ حَسِيْبُۂ بہر حال ان ابتدائی ایام میں وہ ایک سر بر آوردہ اور ممتاز عالم تھے حضرت کی تائید میں اغلامُ النَّاسِ تَحْذِيرُ الْمُؤْمِنِيْنَ اور عصائے موسیٰ کے جواب میں ایک مبسوط کتاب لکھی۔اللہ تعالیٰ ان کے ستاری فرمائے (عرفانی الکبیر )