حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 335
حیات احمد ۳۳۵ جلد سوم سنتے رہے آخر اس نے کہا کہ میں آپ کی تعریف کو تسلیم کروں گا۔اس پر میں نے کہا کہ پھر فیصلہ آسان ہے میں جو تعریف کروں گا اس کا مصداق مرزا صاحب کو ثابت کروں گا پس میں مختصراً کہتا ہوں کہ مرزا صاحب محدث ہیں اس پر حافظ پریشان ہو گیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا چلو بھائی مرزا صاحب تو جواب نہیں دیتے اور ان سے انارکلی میں نپٹ لیں گے۔وہ ہجوم منتشر ہو گیا۔اب حضرت اقدس نے مجھ سے خطاب فرمایا اور میں نے اپنے تعارف کی تجدید کی اور آپ بہت خوش ہوئے۔میں نے کہا کہ اس سے روزانہ انار کلی میں مباحثات ہوتے رہتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت اقدس تشریف لے گئے اور میں گھر کو چلا آیا۔میں اس وقت بھائی دروازہ میں رہتا تھا وہاں قریب ہی مولوی عبداللہ صاحب ٹوٹکی رہتے تھے میں ان کے تلامذہ سے اُن کے گھر پر اُلجھ جایا کرتا تھا۔اور مولوی عبداللہ صاحب زیر لب مسکراتے رہتے کوئی فیصلہ کن بات نہ کرتے۔بھائی دروازہ کی مسجد میں جلسہ بھائی دروازے کے اندر ایک اونچی مسجد ہے جب میں وہاں پہنچا تو ایک بڑا ہجوم دیکھا میں اندر گیا تو ایک بڑا جلسہ ہو رہا تھا مولوی عبداللہ ٹونکی صدر تھے۔اور حافظ محمد یسین توضیح مرام کی عبارتیں پڑھ پڑھ کر اعتراض نما تقریر کر رہے تھے۔میں نے جاتے ہی للکار کر کہا کہ اسی مسئلہ پر تو جھاڑ کھا چکا ہے اب یہاں آ کر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔میں نے مولوی عبداللہ صاحب سے کہا کہ مجھے اجازت دو کہ میں جواب دوں۔ابھی مولوی صاحب جواب نہ دینے پائے تھے کہ ایک شخص عبدالکریم نام جو مختار عدالت تھا اور ایک لفنگا ٹائپ کا آدمی تھا اور عام طور پر کریم بکرا کے نام سے مشہور تھا۔اُس نے آگے بڑھ کر مجھے ایک تھپڑ مارا اور میری پگڑی کہیں دور جا پڑی اور نہایت غلیظ گالی مجھ کو دی مجھے بھی جوش آ گیا اور میں نے تقریر شروع کی کہ یہ ہیں اخلاق تمہارے