حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 336
حیات احمد ۳۳۶ جلد سوم رہنماؤں کے نہ اسے مسجد میں گند بولتے ہوئے شرم آئی اور نہ اپنے صدر جلسہ کا احترام کیا اس موضوع پر میں بولتا گیا مولوی عبداللہ صاحب نے اعلان کر دیا کہ جلسہ برخاست۔مجھے کسی اور نے کچھ نہیں کہا میں آرام سے نکلا تو ایک صاحب میرے ساتھ تھے میں ان کو نہ تب جانتا تھا نہ آج وہ گویا میرے ساتھ بطور ایک محافظ کے تھے اور آہستہ سے کہا کہ پگڑی میرے پاس ہے ہم ہجوم سے نکل آئے تو کہا چلو میں آپ کو دودھ پلاؤں میں نے انکار کیا وہ میرے ساتھ ساتھ گھر کے قریب تک آیا اور باصرار دودھ کے لئے ایک روپیہ میری جیب میں ڈال کر چلتا ہوا۔اس واقعہ کی اطلاع حضرت کو بھی ملی دوسرے دن جو میں حاضر ہوا تو آپ نے بڑی دلجوئی فرمائی اور فرمایا انبیاء کی جماعتوں کو بڑے ابتلاؤں سے گزرنا ضروری ہوتا ہے اور وہ لوگ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں جو ان ابتلاؤں میں ایمان سلامت رکھتے ہیں۔“ لاہور کی اس وقت کی جماعت کے لوگ تو میری سرگرمیوں سے واقف تھے۔میراں بخش کی کوٹھی میں لیکچر ۳۱ / جنوری ۱۸۹۲ء کو آپ نے عام لیکچر منشی میراں بخش کی کوٹھی کے احاطے ہی میں دیا۔بلا مبالغہ ہزاروں آدمی وہاں جمع تھے ہر طبقہ کے لوگ تھے۔تعلیم یافتہ۔شرفاء شہر اور عہدہ داران۔انتظام پولیس نے کیا ہوا تھا۔حضرت اقدس نے اپنی دعاوی کومبر ہن کیا اور ان کے متعلق ضروری دلائل پیش کئے اور بالآخر آپ نے اس الزام کے جواب میں کہ علماء میرے مقابلہ میں دلائل قرآنیہ سے عاجز آ کر میرے خلاف کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ایک مومن کو کافر کہہ دینا آسان ہے مگر اپنا ایمان ثابت کرنا آسان نہیں قرآن کریم نے مومن اور غیر مومن کے لئے کچھ نشان مقرر کر دیئے ہیں۔میں ان کا فر کہنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسی لاہور میں میرے اور اپنے ایمان