حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 334
حیات احمد ۳۳۴ جلد سوم جانے سے روکتے تھے۔میں بلاخوف اندر چلا گیا۔حضرت صاحب اٹھ کر اندر جا چکے تھے۔مرحوم مرزا اسماعیل بیٹھے تھے انہوں نے مجھے بھی کسی مدرسہ کا نیم ملا سمجھ کر ڈانٹ کر کہا جاؤ مرزا صاحب اندر چلے گئے۔اب اس وقت نہیں آئیں گے میں نے دریافت کیا کب آئیں گے تو جواب ملا معلوم نہیں۔ابھی ہم میں تبادلہ کلام ہورہا تھا کہ حضرت اقدس تشریف لے آئے۔میں نے آگے بڑھ کر سلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا۔آپ تشریف فرما ہوئے تو باہر شور مچ گیا اور ایک ہجوم اندر آیا ان کے لیڈر ایک حافظ محمد یسین صاحب تھے ان کے ایک بھائی اور مینٹل کالج میں مدرس تھے غالبا ان کا نام مومن علی تھا۔حافظ صاحب سے روزانہ، انار کلی میں مباحثہ ہوتا تھا۔ان واقعات کے جاننے والوں میں حضرت مرہم عیسی صاحب الْحَمْدُ لِلهِ زندہ ہیں۔اس نے اپنے ہاتھ میں تو ضیح مرام لیا ہوا تھا۔اور اس نے سوال کیا کہ آپ نے لکھا ہے کہ محدث ایک معنے سے نبی ہوتا ہے۔آپ کے محدث ہونے کا کیا ثبوت ہے۔حضرت اقدس۔میں نے ایک رسالہ آسمانی فیصلہ لکھا ہے وہ دو چار دن میں آ جاوے گا۔آپ کو اس کے پڑھنے سے سب معلوم ہو جائے گا۔حافظ۔ہم کو اس کے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں آپ خود موجود ہیں آپ ثبوت پیش کریں۔وہ اس پر اصرار کرتا تھا میں نے جرات کر کے عرض کیا کہ مجھے اجازت ہو تو میں اس کا جواب دوں آپ نے بلا تکلف فرمایا آپ کو اجازت ہے۔اس پر میں نے حافظ صاحب کو خطاب کیا اور کہ ہر روز انار کلی میں آپ گفتگو کرتے ہیں اور آپ سے جواب بن نہیں آتا آج یہاں شور مچانے آ گئے ہو۔محدث کی تعریف کرو پھر میں ثبوت دوں گا کہ مرزا صاحب محدث ہیں۔میں جانتا تھا کہ اس قسم کے سوالات سے یہ لوگ گھبرایا کرتے ہیں۔چنانچہ حافظ نے کہا کہ آپ ہی کر دیں۔میں نے کہا جو تعریف کروں گا وہ تم کو ماننی پڑے گی ورنہ تم خود کرو۔اس کے موافق وہ صفات میں مرزا صاحب ثابت کر دوں گا۔حضرت صاحب نے ایک دو مرتبہ میری طرف دیکھا اور پھر مباحثہ