حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 326 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 326

حیات احمد ۳۲۶ ڈاکٹر صاحب کا خط پہنچا۔ڈاکٹر صاحب ایسے امور کے دکھلانے کے لئے مجھے مجبور کرتے ہیں جو میرا نور قلب شہادت نہیں دیتا کہ میں اُن کے لئے جناب الہی میں دعا کروں۔گو یہ عاجز خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود جانتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ ہر ایک قدرتی کام وابستہ باوقات ہے اور جب کسی امر کے ہو جانے کا وقت آتا ہے تو اس امر کے لئے دل میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور امید بڑھ جاتی ہے اور اب ایسی باتوں کی طرف جو ڈاکٹر صاحب کا منشاء ہے کہ کوئی مردہ زندہ ہو جائے اور یا کوئی مادر زاد اندھا اچھا ہو جائے پیدا نہیں ہوتا۔ہاں اس بات کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے کہ کوئی امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو۔خواہ مردہ زندہ ہو اور خواہ زندہ مرجائے۔یہی بات پہلے بھی میں نے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں لکھی تھی کہ آپ صرف یہی شرط رکھیں کہ ایسا امر ظاہر ہو کہ جو انسانی طاقتوں سے برتر ہو۔اور کچھ شک نہیں کہ جو امر انسانی طاقتوں سے برتر ہو وہی خارق عادت ہے مگر ڈاکٹر صاحب نے خواہ نخواہ مردہ وغیرہ کی شرطیں لگا دی ہیں۔اعجازی امور اگر ایسے ایسے کھلے کھلے اور اپنے اختیار میں ہوتے تو ہم ایک دن میں گویا تمام دنیا سے منوا سکتے ہیں لیکن اعجاز میں ایک ایسا امر مخفی ہوتا ہے کہ سچا طالب حق سمجھ جاتا ہے کہ یہ امر منجانب اللہ ہے اور منکر کو عذرات رکیکہ کرنے کی گنجائش بھی ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا میں خدا تعالیٰ ایمان بالغیب کی حد کو توڑنا نہیں چاہتا۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت عیسی نے مردے زندہ کئے اور وہ مردے دوزخ یا بہشت سے نکل کر گل اپنا حال سناتے ہیں اور اپنے بیٹوں اور پوتوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہم تو عذاب وثواب کا کچھ دیکھ آئے ہیں ہماری گواہی مان لو کہ یہ خیالات لغو ہیں بے شک خوارق ظہور میں آتے ہوں گے مگر اس طرح نہیں کہ دنیا قیامت کا نمونہ بن جائے۔یہی وجہ ہے کہ بعض حضرت عیسی سے منکر رہے اور معجزات مانگتے رہے۔حضرت عیسی نے کبھی ان کا جواب نہ دیا کہ جلد سوم