حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 320 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 320

حیات احمد ۳۲۰ انہوں نے اس عاجز سے بدوں تصدیق نبوی کے کیوں بیعت کر لی اور کیوں دس سال تک برابر خلوص نماؤں کے گروہ میں رہے تعجب کہ ایک دفعہ بھی رسول کریم ان کی خواب میں نہ آئے اور ان پر ظاہر نہ کیا کہ اس کذاب اور مکار اور بے دین سے کیوں بیعت کرتا ہے اور کیوں اپنے تئیں گمراہی میں پھنساتا ہے۔کیا کوئی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کو یہ اقتدار حاصل ہے کہ بات بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری میں چلا جاوے اور اُن کے فرمودہ کے مطابق کار بند ہو اور اُن سے صلاح مشورہ لے لے وہ دس برس تک برابر ایک کذاب اور فریبی کے پنجہ میں پھنسا رہے اور ایسے شخص کا مرید ہو جاوے جو اللہ اور رسول کا دشمن اور آنحضرت کی تحقیر کرنے والا اور تحت الثریٰ میں گرنے والا ہو، زیادہ تر تعجب کا مقام یہ ہے کہ میر صاحب کے بعض دوست بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بعض خوا میں ہمارے پاس بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آنحضرت نے اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ وہ شخص واقعی طور پر خلیفہ اللہ اور مجدد دین ہے اور اسی قسم کے بعض خط جن میں خوابوں کا بیان اور تصدیق اس عاجز کے دعوی کی تھی میر صاحب نے اس عاجز کو بھی لکھے۔اب ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اگر میر صاحب رسول اللہ صلم کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں تو جو کچھ انہوں نے پہلے دیکھا وہ بہر حال اعتبار کے لایق ہو گا اور اگر وہ خوابیں ان کی اعتبار کے لائق نہیں اور أَضْغَاثُ احلام میں داخل ہیں تو ایسی خواہیں آئندہ بھی قابل اعتبار نہیں ہوسکتیں۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرانہ دعوی کس قد رفضول بات ہے۔حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثل شیطان سے وہی خواب رسول بینی کی مبرا ہو سکتی ہے جس میں آنحضرت صلعم کو اُن کے حلیہ پر دیکھا گیا ہو ورنہ شیطان کا تمثل انبیا کے پیرایہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے ہے اور شیطان لعین تو خدا تعالیٰ کا تمثل اور جلد سوم