حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 318
حیات احمد ۳۱۸ بہشت کے بارہویں تخت کی خوشخبری بھی دی گئی تھی۔اور میاں پطرس کیسے بزرگ حواری تھے جن کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ آسمان کی کنجیاں اُن کے ہاتھ میں ہیں جن کو چاہیں بہشت میں داخل کریں اور جن کو چاہیں نہ کریں لیکن آخر میاں صاحب موصوف نے جو کرتوت دکھلائی وہ انجیل پڑہنے والوں پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر اور اُن کی طرف اشارہ کر کے نَعُوذُ بِالله بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پر لعنت بھیجتا ہوں۔میر صاحب ابھی اس حد تک کہاں پہنچے ہیں۔کل کی کس کو خبر ہے کہ کیا ہو۔میر صاحب کی قسمت میں اگر چہ لغزش مقدر تھی اور أَصْلُهَا ثَابِتٌ کی ضمیر تانیث بھی اس کی طرف ایک اشارہ کر رہی تھی لیکن بٹالوی صاحب کی وسوسہ اندازی نے اور بھی میر صاحب کی حالت کو لغزش میں ڈالا۔میر صاحب ایک سادہ آدمی ہیں جن کو مسائل دقیقہ دین کی کچھ بھی خبر نہیں حضرت بٹالوی وغیرہ نے مفسدانہ تحریکوں سے ان کو بھڑکا دیا کہ یہ دیکھو فلاں کلمہ عقیدہ اسلام کے برخلاف اور فلاں لفظ بے ادبی کا لفظ ہے میں نے سنا ہے کہ شیخ بٹالوی اس عاجز کے مخلصوں کی نسبت قسم کھا چکے ہیں کہ لأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ اور اس قدر غلو ہے کہ شیخ نجدی کا استثنا بھی ان کی کلام میں نہیں پایا جاتا تا صالحین کو باہر رکھ لیتے اگر چہ وہ بعض روگردان ارادتمندوں کی وجہ سے بہت خوش ہیں مگر انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ ایک ٹہنی کے خشک ہونے سے سارا باغ برباد نہیں ہو سکتا۔جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خشک کر دیتا ہے اور کاٹ دیتا ہے اور اُس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کر دیتا ہے۔بٹالوی صاحب یا د رکھیں کہ اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدائے تعالیٰ اس کی جگہ ہیں لائے گا اور اس آیت پر غور کریں فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ ل المائدة: ۵۵ جلد سوم