حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 315 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 315

حیات احمد ۳۱۵ نہ کچھ اعتراض کی بات ہے۔بلاشبہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہیں کفار میں بھی بعض فطرتی خوبیاں ہوتی ہیں اور بعض اخلاق فطرتاً ان کو حاصل ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجسم ظلمت اور سراسر تاریکی میں کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کیا ہاں یہ سچ ہے کہ کوئی فطرتی خوبی بجز حصول صراط مستقیم کے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے موجب نجات اخروی نہیں ہو سکتی کیونکہ اعلیٰ درجہ کی خوبی ایمان اور خدا شناسی اور راست روی اور خدا ترسی ہے اگر وہی نہ ہوئی تو دوسری خوبیاں بیچ ہیں۔علاوہ اس کے یہ الہام اُس زمانہ کا ہے کہ جب میر صاحب میں ثابت قدمی موجود تھی زبر دست طاقت اخلاص کی پائی جاتی تھی۔اور اپنے دل میں وہ بھی یہی خیال رکھتے تھے کہ میں ایسا ہی ثابت رہوں گا۔سو خدا تعالیٰ نے اُن کی اُس وقت کی حالت موجودہ کی خبر دے دی۔یہ بات خدا تعالیٰ کی تعلیمات وحی میں شایع متعارف ہے کہ وہ موجودہ حالت کے مطابق خبر دیتا ہے۔کسی کے کافر ہونے کی حالت میں اُس کا نام کافر ہی رکھتا ہے اور اُس کے مومن اور ثابت قدم ہونے کی حالت میں اُس کا نام مومن اور مخلص اور ثابت قدم ہی رکھتا ہے خدا تعالیٰ کے کلام میں اس کے نمونے بہت ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ میر صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجز کے مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کرنے کے وقت نہ صرف آپ انہوں نے بیعت کی۔بلکہ اپنے دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اس سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں جس قدر انہوں نے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے اُن کا اس وقت میں اندازہ بیان نہیں کر سکتا لیکن دوستو کے قریب اب بھی ایسے خطوط ان کے موجود ہوں گے جن میں انہوں نے انتہائی درجہ کے عجز اور انکسار سے اپنے اخلاص اور ارادت کا بیان کیا ہے بلکہ بعض خطوط میں اپنی وہ خواہیں جلد سوم