حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 302 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 302

حیات احمد ٣٠٢ ضرور پائے جانے چاہئیں کیوں کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں خطا اور تخلف نہیں۔سو اُن تمام علامات کا مومن میں پائے جانا جن کا قرآن کریم میں مومنوں کی تعریف میں ذکر فرمایا گیا ہے ضروریات ایمان میں سے ہے اور مومنوں اور ایسے شخص میں فیصلہ کرنے کے لئے جن کا نام اس کی قوم کے علماء نے کا فر رکھا اور مفتری اور دجال اور ملحد قرار دیا یہی علامات کامل محک اور معیار ہیں پس اگر کوئی شخص اپنے بھائی مسلمان کا نام کا فر رکھے اور اس سے مطمئن نہ ہو کہ وہ شخص اپنے ایماندار ہونے کا اقرار کرتا ہے کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا قائل ہے اور اسلام کے تمام عقیدوں کا مانے والا ہے اور خدائے تعالیٰ کے تمام فرائض اور حدود اور احکام کو فرائض اور حدود اور احکام سمجھتا ہے اور حتی الوسع اُن پر عمل کرتا ہے تو پھر بالآ خر طریق فیصلہ یہ ہے کہ فریقین کو ان علامات پر آزمایا جاوے جو خدواند تعالیٰ نے مومن اور کافر میں فرق ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم میں ظاہر فرمائی ہیں تا جو شخص حقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک مومن ہے اس کو خدائے تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق تہمت کفر سے بری کرے اور اُس میں اور اُس کے غیر میں فرق کر کے دکھا دیوے اور روز کا قصہ کوتاہ ہو جاوے۔یہ بات ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اگر یہ عاجز جیسا کہ میاں نذیرحسین اور اس کے شاگرد بٹالوی کا خیال ہے درحقیقت کا فر اور دجال اور مفتری اور مورو دلعن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے تو خدائے تعالیٰ عند المقابلہ کوئی نشان ایمانداران کا اس عاجز کی تصدیق کے لئے ظاہر نہیں کرے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ کافروں اور اپنے دین کے مخالفوں کے بارے میں جو بے ایمان اور مردود ہیں ایمانی علامات کے دکھلانے سے ہرگز اپنی تائید ظاہر نہیں کرتا اور کیونکر کرے جبکہ وہ اُن کو جانتا ہے کہ وہ دشمن دین اور نعمت ایمان سے بے بہرہ ہیں سوجیسا کہ میاں نذیر حسین صاحب اور بٹالوی نے میری نسبت کفر اور بے دینی کا فتویٰ لکھا اگر میں در حقیقت جلد سوم