حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 299 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 299

حیات احمد ۲۹۹ دوستوں نے عام طور پر شہر پٹیالہ میں شائع کر دیا کہ گویا مولوی صاحب اپنی اس تقریر میں جو اس عاجز سے کی تھی فتح یاب ہوئے۔چونکہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خلاف واقعہ تقریر کا پٹیالہ کے عوام پر بد اثر پڑے گا۔اور شاید وہ اس مفتر یا نہ تقریر کو سن کر یہ سمجھ بیٹھے ہوں گے کہ در حقیقت مولوی صاحب نے فتح پالی ہے لہذا مولوی محمد الحق صاحب کو مخاطب کر کے اشتہار ہذا شائع کیا جاتا ہے کہ ہر ایک خاص و عام کو اطلاع رہے کہ جو بیان مولوی صاحب کی طرف سے شائع ہوا ہے وہ محض غلط ہے۔حق بات یہ ہے که ۳۰ اکتوبر کی تقریر میں مولوی صاحب ہی مغلوب تھے اور ہمارے شافی و کافی دلائل کا ایک ذرہ جواب نہیں دے سکے۔اگر ہمارا یہ بیان مولوی صاحب کے نزدیک خلاف واقعہ ہے تو مولوی صاحب پر فرض ہے کہ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد ایک جلسہ بحث مقرر کر کے اس مسئلہ حیات و وفات مسیح میں اس عاجز سے بحث کر لیں اور اگر بحث نہ کریں تو پھر ہر ایک منصف کو سمجھنا چاہیے کہ وہ گریز کر گئے۔شرائط بحث بہ تفصیل ذیل ہوں گے۔(۱) حیات و وفات مسیح ابن مریم کے بارہ میں بحث ہوگی (۲) بحث تحریری ہوگی یعنی دو کا تب ہماری اور دو کا تب مولوی صاحب کی طرف سے اپنی اپنی نوبت پر بیانات قلمبند کرتے جائیں گے۔اور ہر یک فریق ایک ایک نقل د تخطی اپنے فریق ثانی کو دے دے گا۔پرچے بحث کے تین ہوں گے۔مولوی صاحب کی طرف سے بوجہ مدعی حیات ہونے کے پہلا پرچہ ہو گا۔پھر ہماری طرف سے اس کا جواب ہو گا۔تحریری بحث سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ فریقین کے بیانات محفوظ رہتے ہیں۔اور دور دست کے غائبین کو بھی ان پر رائے لگانے کا موقعہ مل سکتا ہے اور کسی کو یہ یارا نہیں ہوتا کہ خارج از بحث یا رطب و یابس کو زبان پر لا سکے۔پبلک اس بات کو سن رکھے کہ ہم اس اشتہار کے بعد ۲ نومبر ۱۸۹۱ء کے ۱۲ بجے دن تک مولوی صاحب جلد سوم