حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 300 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 300

حیات احمد کے جواب اور شروع بحث کا انتظار کریں گے۔جس طرح دہلی میں مولوی سید نذیر حسین کو اشتہار کے ار اکتوبر ۱۸۹۱ء میں قسم دی گئی تھی وہی قسم آپ کو بھی دی جاتی ہے۔امید ہے کہ آپ بحث سے ہرگز احتراز نہ کریں گے۔خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی۔وارد حال شہر پٹیالہ جلد سوم به مکان شیخ فضل کریم صاحب سررشتہ محکمہ اڈیشنل جج۔المرقوم ۳۱ اکتوبر ۱۸۹۱ء واضح ہو کہ میری کتاب ازالہ اوہام یہاں پٹیالہ میں میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس محکمہ نہر سر ہند سے مل سکتی ہے۔آسمانی فیصلہ کے ذریعہ اتمام حجت مباحثات میں عاجز آ کر اور قسم سے گریز کر کے جب علماء سوء نے دیکھا کہ سلسلہ حقہ کی قبولیت بڑھ رہی ہے تو انہوں نے حربہ ء کفر کے ذریعہ اس کو روکنا چاہا اور اپنے مکاید کے آخری منصوبہ سے کام لیا اور اعلان کیا کہ یہ شخص اپنے ان دعاوی کی وجہ سے (نعوذ باللہ ) مسلمان نہیں۔علماء سوء سمجھتے تھے کہ یہ حربہ کارگر ہو گا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا حربہ دیا کہ جس نے اس باطل کو کچل ڈالا۔اور وہ یہ کہ آپ نے (تحریر فرمایا کہ ) مومن اور کافر کے مابین جو امتیاز قرآنِ کریم نے پیش کیا ہے اس معیار پر مقابلہ کر لیا جاوے۔اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ مومن کون ہے؟ اس مقصد کے لئے آپ نے ایک رسالہ آسمانی فیصلہ لکھا ہے اور اس کے ذریعہ ان مكفر مولویوں کو دعوت مقابلہ دی کہ قرآن کریم نے مومن اور کافر میں جو امتیازات رکھے ہیں اس کو معیار ٹھہرا کر ایک فیصلہ کر لیں اس کے ذریعہ ثابت ہو جائے گا۔کیست مومن کیست کافر خود بگردد آشکار لے یہ اشتہار کتاب ہذا کے صفحہ ۲۵۰ تا ۲۵۹ پر ہے ( ناشر ) ۲ ترجمہ۔کون مومن ہے اور کون کافر ہے خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔