حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 297 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 297

حیات احمد ۲۹۷ جلد سوم پٹیالہ میں مخالفت کا جوش حضرت کے ورود کے ساتھ ہی مخالفت کا ایک طوفان اٹھا اس کے لیڈر مولوی محمد اسحاق صاحب تھے جنہوں نے بعد میں کفر کے فتوے پر بھی دستخط کئے۔چونکہ وہاں صاحب اثر تھے اور بعض علماء ان کے ماتحت ملازم تھے اس لئے حق گوئی کی توفیق ان کو نہ ملی۔البتہ ان میں ایک سعادت مند روح بھی تھی یہ حضرت مولوی محمد عبد اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ پروفیسر پٹیالہ کالج تھے وہ اس وقت سلسلہ میں داخل نہ تھے مگر حق گوئی کی ایک جرات مومنانہ اُن میں تھی۔قیام پٹیالہ میں ایک دن مولوی محمد اسحاق صاحب اور مولوی حافظ غلام مرتضی خاں صاحب حضرت کی خدمت میں آئے اور آداب مجلس و شرافت کو بالائے طاق رکھ کر گفتگو کرتے تھے اس اثناء میں مولوی غلام مرتضی خاں نے استہزائیہ کلام کیا تو اس سعید روح نے مومنانہ غیرت کا نمونہ دکھایا ور نہایت دلیری سے کہا کہ مولوی صاحب آپ نے تہذیب سے کام نہیں لیا آپ کی مولویانہ شان سے بعید ہے کہ ایسی سوقیانہ باتیں کریں۔“ اس پر وہ لوگ چلے گئے بعد میں حضرت نے ، حضرت منشی عبداللہ سنوری سے دریافت کیا یہ کون صاحب تھے جنہوں نے مولوی غلام مرتضیٰ خاں کو ڈانٹا ان میں سے ایمان کی خوشبو آتی ہے۔بالآ خر اللہ تعالیٰ نے اس سعید روح کو معہ خاندان داخل سلسلہ کیا اور وہ جماعت کی تعلیم وتربیت اور اس کے نظام میں نہایت دلچسپی لیتے رہے۔اور جماعت ترقی کرتی رہی۔افسوس ہے کہ خلافت ثانیہ کے قیام کے وقت انہیں ٹھوکر لگی اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص اور خدمات سابقہ کے مدنظر ان پر اپنی رحمت کے دروازوں کو کھلا رکھے۔پٹیالہ میں اتمام حجت اس موقعہ پر آپ نے اتمام حجت کے لئے ۳۱ / اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ذیل کے اشتہار کے ذریعہ اتمام حجت کر دیا مگر کسی کو میدان میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔