حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 293
حیات احمد ۲۹۳ جلد سوم جاتے تو عمامہ آنکھوں پر رکھتے ایک شخص فصیح الدین نام جو اکثر حضور میں حاضر رہتے تھے انہوں نے عرض کیا کہ حضرت اس کی کیا وجہ ہے جو آپ اس طرح رہتے ہیں؟ آپ نے گلاہ اُتار کر اُن کے سر پر رکھ دی ایک دفعہ ہی بے ہوش ہو گئے۔جب دیر میں افاقہ ہوا عرض کیا سوسوا سو کی شکل آدمی کی تھی اور کوئی ریچھ اور کوئی بندر اور کوئی خنزیر کی شکل اور اس وقت مسجد میں پانچ چھ ہزار آدمی تھے۔حضرت نے فرمایا کہ میں کس کی طرف دیکھوں اس لئے میں نہیں دیکھتا۔“ اس مباحثہ کے بعد حضرت اقدس نے واپسی کا عزم فرمایا اور چونکہ ان ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب پٹیالہ میں تھے آپ دہلی سے پٹیالہ تشریف لے گئے۔مولوی محمد بشیر کے مباحثہ کا پہلا دن بروز جمعہ بعد نماز مباحثہ کا پہلا دن مقرر ہوا تھا۔جناب مولوی صاحب حسب وعدہ تشریف لائے ان کی پہلی ملاقات اس طرح پر ہوئی۔مولوی بشیر معہ چند آدمیوں کے آ گئے پہلے مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی سے ย سلام مسنون کے بعد مصافحہ کیا۔اور پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں تشریف رکھتے ہیں۔عبدالکریم سیالکوٹی، حضرت اقدس علیہ السلام اوپر بالا خانہ پر رونق افروز ہیں۔بشیر آپ کو اطلاع کر دیجئے۔امیر سیالکوٹ نے حضرت اقدس علیہ السلام کو اوپر بالا خانہ پر جا کر اطلاع دی کہ حضرت (صلى الله عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٍ ) مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی آئے ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لائے۔مولوی محمد بشیر صاحب نے السلام علیکم کہہ کر حضرت سے مصافحہ کیا اور حضرت اقدس نے السلام کا جواب وعلیکم السلام دیا۔بشیر نے مصافحہ کے بعد معانقہ کیا۔چونکہ حضرت اقدس علیہ السلام کو معانقہ کی عادت نہیں