حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 291
حیات احمد ۲۹۱ جلد سوم تھے انہوں نے اس کے پینے پر نہ صرف آمادگی بلکہ کڑوا گھونٹ سمجھ کر بھی پینے کی کوشش کی۔حضرت مولانا عبدالکریم رضی اللہ عنہ جو اس مباحثہ کی اشاعت کے ایڈیٹر ہیں۔انہوں نے جن خیالات کا اظہار فرمایا۔وہ قابل غور ہیں۔مولوی محمد بشیر صاحب نے کسی نیت پر اس میدان میں قدم رکھا ہو مگر ہم انہیں مبارک دیتے ہیں کہ انہوں نے ہند و پنجاب کے علماء کی طرف سے اپنے تئیں فدیہ دیا ہے۔واقعی وہ ایک زبر دست کفارہ اپنے ہم پیشہ لوگوں کی طرف سے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لق ودق بیاباں میں جہاں کہ جادہ نہیں ملتا تھا اور نہ جہاں کوئی نقش پائے راہ رواں ہی نظر آتا تھا اس نشان کی طرح کھڑا کیا جس سے مسافر سمت کا پتہ لگاتے ہیں۔اگر چہ اس میل ( نشان ) کو شعور نہ ہو کہ بقیہ حاشیہ۔اس ثبوت کے بعد آپ دوسری بحث کر سکتے ہیں آپ کی خدمت میں ایک اشتہار بھی بھیجا جاتا ہے جس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات و وفات مسیح میں کن شرائط کی پابندی سے آپ کو بحث کرنا ہوگا۔والسلام خاکسار عبداللہ الصمد غلام احمد عفی عنہ۔۲۱ / اکتوبر ۱۸۹۱ء نمبر ۴۔مکرم اخویم مولوی صاحب - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ - کل دس بجے کے بعد بحث ہویا اگر ایک ضروری کام سے فرصت ہوئی تو پہلے ہی اطلاع دے دوں گا ورنہ انشاء اللہ القدیر دس بجے کے بعد تو ضرور بحث شروع ہو گی۔صرف اس بات کا التزام ضروری ہوگا کہ بحث اس عاجز کے مکان پر ہو اس کی ضرورت خاص وجہ سے ہے جو زبانی بیان کر سکتا ہوں۔جلسہ عام نہیں ہو گا۔صرف دس آدمی جو معزز خاص ہوں آپ ساتھ لا سکتے ہیں مگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ ہوں۔اور نہ آپ کو ان بزرگوں کی کچھ ضرورت ہے۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ۔۲۲ /اکتوبر ۱۸۹۱ء نمبر ۵ جناب مولوی صاحب مکرم بندۂ السلام علیکم۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان تمام شرطوں کو جو میں اپنے کل کے پرچہ میں لکھ چکا ہوں قبول کرنے سے کسی کا انحراف یا میلان انحراف ظاہر نہ کریں یعنی جن لوگوں کو آنے سے روکا ہے تجربہ اور مصلحتاً روکا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ خیر و برکت اسی میں ہے بہت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعد از فراغ نماز جمعہ بحث شروع ہو اور شام تک یا جس وقت تک ممکن ہو سکے سلسلہ بحث جاری ہو اور دس آدمیوں سے زیادہ ہرگز کسی حال میں آپ کے ساتھ نہ ہوں اور اس لحاظ سے کہ بحث بے فائدہ طول نہ ہو۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔مرزا غلام احمد بقلم خود - ۲۳ /اکتوبر ۱۸۹۱ء