حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 283 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 283

حیات احمد ۲۸۳ جلد سوم جامع مسجد (منارۃ دمشقی شرقی) کے نیچے کھڑے ہو کر ہم نے مشورہ کیا کہ اب کہاں جائیں۔پھر میں اور منشی ظفر احمد صاحب ان مولویوں کی یہودیانہ حرکات پر افسوس کرتے ہوئے ایک منشی احمد حسین صاحب بنتی جامع مسجد کے قریب رہتے تھے۔ان کے پاس گئے یہ صاحب میرے والد کے مرید اور وظیفہ خوان تھے۔میں نے کہا منشی صاحب تم میرے والد کے مرید ہو اور ہمیشہ ان کی محبت اور اپنی ارادت کا خلوص ظاہر کیا کرتے تھے ہمیں کتابوں کی ضرورت ہے تم کسی سے اپنی معرفت کے دو۔منشی صاحب نے کہا کہ مجھے خوب معلوم ہے کہ آپ مرزا صاحب کے ارادت مند ہیں۔مرزا صاحب کے واسطے کتابوں کی ضرورت ہوگی۔کتابوں کا ملنا محال ہے۔اس شہر میں یہ عہد ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کو کوئی کتاب نہ دی جاوے۔میں اس میں مجبور ہوں بس اتنا ہی اس وقت ادب کافی ہے کہ آپ تشریف لے جاویں اور زیادہ نہ ٹھہریں۔پھر ہم دونوں حیران و پریشان شرقی منارہ کے نیچے کھڑے ہو گئے اور ہم آپس میں کہنے لگے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے اور لوگوں کا یہ حال ہے۔اب کریں تو کیا۔جو کام اللہ تعالیٰ کو کرنا ہے اس کے اسباب و سامان بھی وہ اپنی قدرت سے بہم پہنچا دیتا ہے۔خود کنی و خود کنانی کار را خود دہی رونق تو آں بازار را یکا یک اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ بہرام خاں کے ترا ہے کہ قریب کو چہ سعد اللہ خاں میں ایک صاحب نقش بندی حاجی علیم اللہ صاحب رہتے ہیں۔اور وہ میرے والد سے اور نیز مجھ سے بھی بڑے عقیدت مند اور بوڑھے جہاندیدہ ہیں۔آؤ اُن کے پاس چلیں ان سے یا ان کی معرفت کسی اور سے کتابیں مل جائیں مگر دل میں دھڑ کا اور خوف کہ مبادا وہاں بھی ایسے ہی یا اس سے زیادہ کوئی واقعہ پیش نہ آ جائے۔خیر تن بہ تقدیر ان کے مکان پر پہنچے اور ڈرتے ڈرتے دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک مارتا ہے۔ایک آواز دی۔دو آواز دی۔تیسری آواز پر ترجمہ۔تو آپ ہی کام کرتا ہے اور آپ ہی کرواتا ہے۔اور آپ ہی اس بازار کو رونق دیتا ہے۔