حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 282
حیات احمد ۲۸۲ جلد سوم آئے اور آتے ہی کہا کہ منشی صاحب اس وقت رات کو کیسے آئے ہم تو تمہاری صورت سے بھی نفرت کرتے ہیں۔منشی صاحب، کچھ کتابوں کی ضرورت ہے آپ دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔مولوی صاحب۔کل کو مرزا کا جناب مولوی محمد بشیر صاحب سے مباحثہ ہے ہم کتاب نہیں دے سکتے۔کل شہر میں اتفاق ہو کر عہد ہو گیا ہے کہ مرزا کو کوئی کتاب مستعار یا قیمت سے نہ دینی چاہئے اور مرزا کو کتابوں کی ضرورت کیا ہے؟ وہ الہام سے کتابوں کی عبارت معلوم کر سکتا ہے۔نعمانی۔سب کام الہام پر نہیں رکھے گئے۔دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہودیوں کا اونٹ کی حلت وحرمت میں مباحثہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کوئی عبارت ان کی کتاب کی الہاما نہیں بتلائی بلکہ ان سے یہ فرمایا کہ ان سے کہو قُل فَأْتُوا بِالتَّوَريةِ فَاتْلُوْهَا إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ - توریت لاؤ اور پڑھ کر سناؤ کہاں اونٹ حرام لکھا ہے۔الہام بجائے خود ہے۔اور کتابیں بجائے خود ہیں۔الہام الہی نے تو ظاہر کر دیا، بتلا دیا کہ تم لوگ خائن ہو، کا ذب ہو، محترف ہو، یہود خصلت ہو، مسیح زندہ نہیں، مر چکا۔اب تمہاری اڑ پر تمہاری کتابیں تمہارے سامنے رکھی جاتی ہیں اور تمہاری خیانت دکھائی جاتی ہے۔وہاں کتاب توربیت منگائی گئی اور پڑھنے کا حکم دیا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وحی سے خبر دے دو۔اور وحی سے ان کی کتاب کی عبارت پڑھ دو۔مسلمات خصم سے خصم ساکت ہوسکتا ہے۔چونکہ جو کتا ہیں تمہارے مسلمات سے ہیں انہیں مسلمات سے بحث کی جاوے گی۔اور سند میں پیش کر کے تمہارے افترا اور کذب اور خیانت سے تم کو مطلع کیا جاوے گا۔مولوی صاحب کو سخت غصہ آیا اور گالیاں دینے لگے اور بڑا شور و غل مچایا اور کہا ارے کوئی محلہ میں ہے جو ان دو شخص مرتد اور ملحد مرزائیوں کی خبر لے ہیں تو وہاں سے چل دیا۔اور منشی صاحب تو بحث کے لئے وہیں ڈٹ گئے۔نعمانی منشی صاحب آؤ چلو ان لوگوں کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔یہ وقت تو گفتگو کا نہیں ہے۔جانے دو مگر جب دو چار آدمی گالیاں دیتے ہوئے آئے تب منشی صاحب وہاں سے چلے۔ال عمران : ۹۴