حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 276 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 276

حیات احمد جلد سوم فکر نہیں۔کوئی غم نہیں۔کوئی صدمہ نہیں۔لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں، تمسخر اڑاتے ہیں۔اس مامور کی ہر ایک بات کو ذلت سے دیکھتے ہیں ذلت کے درپے ہیں۔مگر اس مامور و مرسل کو ان کی ذرا بھی پرواہ نہیں خیال تک نہیں کہ یہ کیا بلا ہیں۔اور کیا سکتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔مرزا حیرت کی یہ شرارت اُسے ہدف ملامت بناتی ہے مگر حضرت اقدس کی وفات پر اُس نے کرزن گزٹ میں جو مضمون شائع کیا میں سمجھتا ہوں کہ اُس کی اس قسم کی شوخیوں کے لئے کفارہ ہو جائے گا۔دوسرے لوگوں کی سفیہا نہ حرکات ا یک روز مولوی محمد احمد وغیرہ کئی مولویوں کو ساتھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا دعوی اگر ولی اللہ ہونے کا ہوتا تو میں اوّل آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہتا لیکن مسیح موعود کا دعوی کھٹکتا ہے۔یہ آپ چھوڑ دیں تو بس ساری دہلی آپ کے تابع ہے۔میں نے ایک کتاب ایک یورپین کی دیکھی اس میں لکھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے مستقل دعوی رسالت کا کیا اس واسطے عیسائی آپ پر ایمان لانے سے رک گئے۔اگر بالواسطہ رسول بنتے اور مسیح کے تابعداروں میں سے ہوتے تو میں کیا گل عیسائی آپ پر ایمان لاتے۔بس اسی کے مطابق قول محمد احمد کا تھا۔اس محمد احمد نے جو شرارتیں اور جو جو فساد کئے وہ محمد حسین بٹالوی کے شر و فساد سے کم نہ تھے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسّلام کے ساتھ والوں کو یہاں تک بھی مشکل تھی کہ بازار سے کوئی چیز خرید کر لانا دشوار تھا۔ہر وقت آپ کے مکان کے سامنے بہت سے آدمیوں کا مجمع رہتا تھا اور ان کو ہنسی اور ٹھٹھے کے سوا کچھ کام نہ تھا۔ایک روز ایک سفید ریش حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر آئے چونکہ آپ اوپر کے کمرہ میں تھے اور میں نیچے درمیانے کمرہ میں تھا اول مجھ سے ملاقات ہوئی کہنے لگے کہ کیا آپ لوگ قیامت کے منکر ہیں؟ میں نے کہا نہیں، کون کہتا ہے؟ ہمارے میں سے کس سے سنا ہے؟ وہ