حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 275 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 275

حیات احمد ۲۷۵ جلد سوم ” میرزا حیرت صاحب بھی تشریف لائے تو انگریزی لباس پہنے اور الٹی مانگ بائیں آنکھ کی طرف انگریزی فیشن کی نکالے ہوئے سر برہنہ تھے یہ بھی خاموش بیٹھ نہ سکے۔آدھ گھنٹے سے پہلے ہی اُٹھ کر چل دیئے ایک روز یا دو روز پیشتر مرزا حیرت صاحب نے یہ کام کیا تھا کہ ایک اشتہار چھپوایا جس کے ایک کالم میں عربی عبارت تھی اور اردو عبارت تھی یعنی عربی کا ترجمہ اور آپ ان اشتہاروں کو لے کر فتح گڑھ کے منارہ پر چڑھ بیٹھے اور وہاں سے وہ اشتہار پھینکنے لگے۔اس اشتہار کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ میں اصل مسیح آسمان سے اترا ہوں۔اور دہلی میں دنبال آیا ہوا ہے نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْهَا ) اُس کے قتل کے لئے آیا ہوں۔مرزا حیرت صاحب نے بھی دہلی کو دمشق بنا دیا کہ آپ اصل مسیح بنے اور معاذ اللہ حضرت اقدس کو دجال بنایا۔دہلی دمشق آپ ہی ہوئی نہ اصل مسیح نه اصل دمشق چونکہ یہ مضمون اشتہار سب مولویوں وغیرہ کے مشورہ سے تھا تو کسی نے بھی یہ نہ کہا کہ مرزا حیرت کفر کہتا ہے اور کسی نے کفر کا فتویٰ تو کیا فسق کا فتویٰ بھی نہ دیا۔الكُفْرُ مِلة وَاحِدَةً مرزا حیرت مذکور ایک روز مصنوعی انسپکٹر بنے اور حضرت علیہ السلام سے کہا کہ میں انسپکٹر ہوں سرکار سے حکم ہوا ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہو گا حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کے کہنے پر بالکل خیال تک بھی نہ کیا اور بات تک بھی نہ کی۔صرف سیدامیر علی شاہ صاحب نے جو کہ اہلکار پولیس تھے ایک بات کی تو مرزا حیرت صاحب حیرت میں ہو گئے اور چل دیئے ایک دم ٹھہر نہ سکے۔سچ ہے چور کے پاؤں نہیں ہوتے۔دہلی میں لوگوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ وہ حرکتیں کیں کہ اگر میں تمام و کمال مفصل لکھوں تو سفر نامہ رہ جاوے اور یہ بیان مشکل سے ختم ہو دے۔ایک اشتہار مولویوں کی طرف سے نکلا اس میں منجملہ اور مضامین کے ایک بات یہ بھی تھی کہ دہلی کا بچہ بچہ مسیح ہے۔اللہ اکبر کیسا بڑا بول ہے۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا لے۔بچہ بچہ خود بخود مسیح ہو جاوے مگر خدا تعالی کا بنایا ہوا مسیح نہ بنے اللہ اکبر! حضرت اقدس علیہ السلام کا حوصلہ دیکھو کہ ان باتوں پر کوئی لے ترجمہ۔بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے۔وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے (الکھف: 1)