حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 274 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 274

حیات احمد ۲۷۴ جلد سوم راحتوں کو رنجوں کے ساتھ بدل سکتا ہے۔کیا انسان اس کے ہاتھ میں نہیں اے دہلی ! تجھ پر افسوس تو نے اپنا اچھا نمونہ نہیں دکھلایا۔اے مسلمانوں کی ذریت! یاد کرو کہ اسلام کیا شے ہے۔ڈرو کہ اللہ جل شانہ بے نیاز ہے۔یقیناً یا درکھو کہ جو اس کی طرف سے ٹھہر چکا ہے وہ انسان کے منصوبوں سے باطل نہیں ہوسکتا۔اے دہلی والو ! تم اس زمین میں رہتے ہو جس میں بہت سے راست باز سوئے ہیں۔شرم کرو کہ تمہارے اوپر خدا ہے اور تمہارے نیچے راست باز ہیں جو خاک میں ملے پڑے ہیں۔وَأفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللهِ وَاللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ۔وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصطفی۔النَّاصِحِ عَبْدِ اللَّهِ الصَّمَدُ غلام احمد قادیانی ۲۳ اکتوبر ۱۸۹۱ء ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۲۹ تا ۲۳۸ طبع بار دوم ) قیام دہلی کے کچھ اور واقعات دہلی اُن ایام میں ایک میدان جنگ بنا ہوا تھا۔مخالف الرائے مولویوں نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ہر روز مختلف قسم کے سب وشتم سے لبریز اشتہارات شائع ہوتے اور بازاروں اور مسجدوں میں مخالفت میں وعظ ہوتے ان میں مولوی عبدالمجید صاحب واعظ بہت پیش پیش تھے مولوی عبدالحق حقانی کی حالت اور ہی تھی۔اندرونی طور پر اپنی سرگرمیوں اور سرگوشیوں میں حصہ لیتے اور یوں حضرت اقدس کے پاس آ کر معذرت بھی کر لی تھی۔جیسا کہ پہلے ۶ /اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں گزر چکا ہے۔میرزا حیرت جن کا اصل نام امراؤ مرز ایڈیٹر کرزن گزٹ بھی کسی سے پیچھے نہ تھا۔مرزا حیرت حضرت اقدس کے مہری تعلقات میں دور کے رشتہ دار بھی تھے انہوں نے بھی اس موقعہ کو اپنی سستی شہرت کا ذریعہ قرار دیا۔ان کی کارستانی کو حضرت صاحبزادہ سراج الحق نعمانی کی زبانی سنو۔