حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 273
حیات احمد ۲۷۳ نزدیک ہے۔میں محض نیک نیتی سے اور اخلاص سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ کہتا ہوں میرا خدا اس وقت دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے اور میرے دل پر نظر ڈال رہا ہے۔بخدا میرے پر ثابت ہو چکا ہے کہ آپ نے محض مولویا نہ نگ و ناموس کی وجہ سے سچی گواہی نہیں دی اور باطل سے دوستی کی اور حق سے دشمنی۔اور آپ نے دہلی والوں کو حق پوشی کی وجہ سے سخت بے باک کر دیا۔یہاں تک کہ بعض نے تمسخر اور ٹھٹھے کی راہ سے میرے مقابلہ پر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور چند اشتہار شائع کر دیئے۔جن میں بعض کے اندر حد سے زیادہ آپ کی تعریف تھی جس پر نظر ڈالنے سے قوی شک گزرتا ہے کہ وہ اشتہارات آپ ہی کے اشارہ سے لکھے گئے ہیں۔ان اشتہاروں میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ اوباشانہ باتوں سے نور اللہ کو منفی کر دیا جائے ، مگر یہ کوشش کچھ نئی نہیں قدیم سے یہ دستور ہے کہ جو لوگ حق کے دشمن ہیں وہ سچائی کے نوروں کو بجھانے کے لئے ہر ایک قسم کے مکر کیا کرتے ہیں۔آخر حق ظاہر ہو جاتا ہے۔اور وہ کراہت ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔انسان کا اپنا تراشا ہوا کام نہیں چل سکتا بلکہ ایسی جماعت جلد متفرق ہو جاتی ہے لیکن جو سلسلہ آسمان اور زمین کے بنانے والے کی طرف سے ہوتا ہے کوئی ہے جو اس کو نابود کر سکے؟ سوائے شیخ الکل ! تو کیوں تیز تلوار پر ہاتھ مار رہا ہے کیا تجھے اپنے ہاتھ کا اندیشہ نہیں۔خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔اگر چہ تو اسے نہیں دیکھتا۔اپنے علم سے بڑھ کر کیوں زیادہ دلیری کرتا ہے کچھ خوف کر۔لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ۔اے ٹھٹھا کرنے والو ! اور تمسخر سے افترا کرنے والو ! اور بیبا کی سے کہنے والو! کہ مسیح موعود تو ہم ہیں کہ ابھی آسمان سے فتح گڑھ کی چھت پر اترے ہیں۔اگر چہ تم اپنے اس امن اور صحت اور جوانی اور غفلت کی حالت میں کب ڈرو گے مگر پھر بھی کہتا ہوں کہ اُس خدا سے ڈرو جو ایک دم میں خوشی کرنے والوں کو غمگین بنا سکتا ہے۔اور ترجمہ۔اللہ کی ناراضگی تمہاری ناراضگیوں کے مقابل پر زیادہ بڑی ہے۔(المؤمن : ۱۱) جلد سوم