حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 265 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 265

حیات احمد ۲۶۵ ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات اور لیلۃ القدر وغیرہ کا قائل ہوں اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ جو کچھ بد نہی سے بعض کو یہ فہم لوگوں نے سمجھ لیا ہے ان اوہام کے ازالہ کے لئے عنقریب ایک مستقل رسالہ تالیف کر کے شائع کروں گا۔غرض میری نسبت جو بجز میرے دعوی وفات مسیح اور مثیل مسیح ہونے کے اور اعتراض تراشے گئے ہیں وہ سب غلط اور پیچ اور صرف غلط فہمی کی وجہ سے کئے گئے ہیں۔پھر بعد اس کے خواجہ صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جبکہ ان عقائد میں در حقیقت کوئی نزاع نہیں۔فریقین بالا تفاق مانتے ہیں تو پھر ان میں بحث کیونکر ہو سکتی ہے۔بحث کے لائق وہ مسئلہ ہے جس میں فریقین اختلاف رکھتے ہیں۔یعنی وفات وحیات مسیح کا مسئلہ جس کے مطے ہونے سے سارا فیصلہ ہو جاتا ہے بلکہ بصورت ثبوت حیات مسیح، مسیح موعود ہونے کا دعوئی سب ساتھ ہی باطل ہوتا ہے۔اور یہ بھی بار باراس عاجز کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے خود وعدہ کر لیا ہے کہ اگر نصوص ہینہ قطعیہ قرآن وحدیث سے حیات مسیح ثابت ہو گئی تو میں مسیح موعود کا دعوی خود چھوڑ دوں گا لیکن باوجود اس کے کہ خواجہ صاحب نے اس بات کے لئے زور لگایا کہ فریق مخالف ضد اور تعصب کو چھوڑ کر مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث شروع کر دیں مگر وہ تمام مغز خراشی بے فائدہ تھی۔شیخ الکل صاحب کی اس بحث کی طرف آنے سے جان جاتی۔لہذا انہوں نے صاف انکار کر دیا اور حاضرین کے دل ٹوٹ گئے۔میں نے سنا ہے کہ ایک شخص بڑے درد سے کہہ رہا تھا کہ آج شیخ الکل نے دہلی کی عزت کو خاک میں ملا دیا اور ہمیں خجالت کے دریا میں ڈبو دیا۔بعض کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارا یہ مولوی سچ پر ہوتا تو اس شخص سے ضرور بحث کرتا، لیکن جاہل اور نادان لوگ جو دور کھڑے تھے وہ کچھ نہیں سمجھتے تھے کہ کیا ہورہا ہے بلکہ تعصب کی آگ میں جلے جاتے تھے۔شیخ الکل صاحب کے ان معتقدین کو جو دُور رہنے والے اور خاص کر جو پنجابی ہیں بڑا جلد سوم