حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 264 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 264

حیات احمد ۲۶۴ جلد سوم لکھ دیا جو بطور نوٹ درج ذیل ہے۔اور خواجہ صاحب نے وہ تمام مضمون صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلند آواز سے سنایا۔اور تمام معزز حاضرین نے جو نز دیک تھے سن لیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي واضح ہو کہ اختلافی مسئلہ جس پر میں بحث کرنا چاہتا ہوں۔صرف یہی ہے کہ یہ دعوی که مسیح ابن مریم علیہ السلام زنده بجسده العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں میرے نزدیک ثابت نہیں ہے اور نصوص قرآنیہ و حدیثیہ سے ایک بھی آیت صريحة الدلالت اور قطعیۃ الدلالت یا ایک بھی حدیث صحیح مرفوع متصل نہیں مل سکتی جس سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہو سکے بلکہ جابجا قرآن کریم کی آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے وفات ہی ثابت ہوتی ہے۔اور میں اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب حیات مسیح علیہ السلام کی آیات صَرِيْحَةُ الدَّلالت اور قطعية الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے ثابت کر دیں تو میں دوسرے دعوی مسیح موعود ہونے سے خود دست بردار ہو جاؤں گا اور مولوی صاحب کے سامنے تو بہ کروں گا۔بلکہ اس مضمون کی کتابیں جلا دوں گا اور دوسرے الزامات جو میرے پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلتہ القدر کا منکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔اور میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام سے جو اعتراض نکالے گئے ہیں یہ نکتہ چینوں کی سراسر غلطی ہے۔اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہء خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔