حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 263 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 263

حیات احمد ۲۶۳ بلکہ منکر کو میں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں تو پھر میں ان عقائد مسلمہ میں بحث کیا کروں۔بحث تو اختلاف کی حالت میں ہوتی ہے نہ اتفاق کی حالت میں۔سو تم مسلّمات فریقین میں خواہ مخواہ کی گفتگو نہ کرو۔اُس بات میں بحث کرو جس میں مجھے تمہارے عقیدہ موجودہ سے مخالفت ہے یعنی صعود ونزول مسیح ابن مریم بجسده العنصری میں۔لیکن حضرت شیخ الکل صاحب اپنی اس ضد سے باز نہ آئے اور بحث حیات و وفات مسیح سے صاف صاف انکار کرتے رہے۔آخر اُن کی اس ضد اور اصرار سے فہیم لوگوں نے سمجھ لیا کہ حضرت کے پاس حیات جسمانی مسیح ابن مریم پر کوئی دلیل نہیں اور نہ وہ دلائل وفات ابن مریم کو رڈ کر سکتے ہیں۔اور رُعب حق کی وجہ سے حسب شرائط اشتہار قسم کھانے کے لئے بھی جرات نہیں۔تب صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس نے اس کشمکش سے تنگ آکر اور لوگوں کی ایک وحشیانہ حالت اور نیز کثرت عوام دیکھ کر خیال کیا کہ اب بہت دیر تک انتظار کرنا اچھا نہیں۔لہذا عوام کی جماعت کو متفرق کرنے کے لئے حکم سنا دیا گیا کہ چلے جاؤ۔بحث نہیں ہوگی۔یہ وہ ا واقعات ہیں جو صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس اور نیز اُن کے معزز ماتحت انسپکٹر صاحب خود درمیان میں کھڑے ہو کر سن چکے ہیں۔اس جلسہء بحث میں خواجہ محمد یوسف صاحب رئیس و وکیل و آنریری مجسٹریٹ علی گڑھ بھی موجود تھے۔اور یہ ایک حسن اتفاق تھا کہ ایسا ثقہ آدمی اس جلسہ میں شامل ہو گیا۔غرض خواجہ صاحب نے فریق ثانی کے بیہودہ عذرات سن کر میری طرف توجہ کی اور کہا کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ بر خلاف عقیدہ اہلِ سنت والجماعت لیلۃ القدر اور معجزات اور ملائک اور معراج وغیرہ سے منکر اور نبوت کے مدعی ہیں۔میں نے کہا کہ یہ سراسر میرے پر افتراء ہے۔میں ان سب باتوں کا قائل ہوں اور ان لوگوں نے میری کتابوں کا منشاء نہیں سمجھا۔اور غلط فہمی سے مجھ کو منکر عقائد اہل سنت کا قرار دے دیا۔تب انہوں نے کہا کہ بہت اچھا اگر فی الحقیقت یہی بات ہے تو مجھے ایک پرچہ پر یہ سب باتیں لکھ دیں۔میں ابھی صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس کو اور نیز پبلک کو سنا دوں گا۔اور ایک نقل اس کی علی گڑھ میں بھی لے جاؤں گا۔تب میں نے مفصل طور پر اس بارے میں ایک پر چہ جلد سوم