حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 260
حیات احمد ۲۶۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ جلد سوم تقریر واجب الاعلان متعلق أن حالات و واقعات کے جو مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب ملقب به شیخ الکل سے جلسہ ءِ بحث ۲۰/اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ظہور میں آئی حضرت شیخ الکل صاحب جلسہء بحث ۲۰ /اکتوبر ۱۸۹۱ء میں حاضر تو ہوئے مگر اپنی خوشی سے نہیں بلکہ اس غیرت دلانے والے اشتہار کی وجہ سے جو میری طرف سے ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو شائع کیا گیا تھا۔جس میں بالفاظ دیگر یہ بھی بیان تھا کہ اگر یہ عاجز یا شیخ الکل صاحب یعنی کوئی ہم دونوں میں سے جلسہ بحث میں حاضر ہونے سے تخلف کرے تو اس پر بوجہ حق پوشی وَصَدَّ عَنْ سَبِيْلِ الله واخفائے شہادت خدائے تعالیٰ کی لعنت ہو، سو اس مجبوری سے ان کو بہر حال حاضر ہونا پڑا تا وہ اپنے تیں اس داغ ملامت سے بچالیں جو درصورت غیر حاضری ان کے چہرہ مشیخت پر لگتا تھا۔مگر جلسہ بحث کے منصف اور معزز حاضرین خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ شیخ الکل صاحب اس داغ سے بچ نہیں سکے۔کیوں کہ ان کا فقط حاضر ہونا اس داغ سے محفوظ رہنے کے لئے کافی نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی تو ضرور تھا کہ وہ اصل مقصد حاضری کو جو مباحثہ تھا نیک نیتی کے ساتھ مد نظر رکھ کر بلا توقف اظهارا للحق مسئلہ وفات وحیات مسیح میں اس عاجز سے بحث کرتے اور حاضرین کو جو شوق سے آئے تھے دکھلاتے کہ حیات مسیح ابن مریم پر کون سے قطعی اور یقینی دلائل اُن کے پاس موجود ہیں اور نیز براہین وفات مسیح کے بارے میں کیا کیا تسلی بخش جوابات ان کے پاس ہیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔کیوں نہیں کیا ؟ اس کا یہی باعث تھا کہ وہ