حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 256 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 256

حیات احمد ۲۵۶ جلسہ میں عاجز حاضر نہ ہو سکا اگر آپ حق پر ہیں اور آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ در حقیقت قرآن کریم کی آیت صریحہ قطعیة الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا زندہ بجسده العنصری آسمان پر اٹھائے جانا متحقق اور ثابت شدہ امر ہے تو ایسی رکیک باتوں کا فتح نام رکھنا سخت نا مردی ہے۔بسم اللہ آئیے اور اپنا وہ عجیب ثبوت دکھلائیے۔اگر آپ ایسی دقتیں جو تمام ملک ہند میں میری طرف سے بدلائل شافیہ یہ اشاعت ہو گئی ہے کہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا زندہ بِجَسدِهِ العنصری اٹھائے جانا قرآن وحدیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ وہ فوت ہو چکا ہے۔اور جو شخص اُن کی جسمانی دنیوی زندگی کا مدعی ہے وہ جھوٹا و کذاب ہے، میدان میں آکر حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی دنیوی زندگی کا ثبوت نہیں دیں گے تو پھر آپ کس مرض کی دوا ہیں اور شیخ الکل کیوں اپنے شاگردوں سے کہلاتے ہیں حضرت! بحث کرنے کیلئے باہر تشریف لائیے کہ میں بحث کے لئے تیار ہوں۔آپ کیوں مقتداء اور شیخ الکل ہونے کی حالت میں بحث کرنے سے کنارہ کرتے اور حق الا مر کو چھپاتے ہیں اور حق کو اس کے ظہور سے روکتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حق کھل جائے۔آپ کو ڈرنا چاہئے يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ کا مصداق نہ ہو جائیں کیونکہ جس حالت میں آپ کے مقابل آنے سے حق کھلتا ہے اور آپ کو ٹھری میں چھپے بیٹھے ہیں تو پھر آپ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللہ کے مصداق ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔پس آپ خدا تعالیٰ سے ڈریں اور بحث کے میدان میں آکر یہ کوشش کریں کہ حق گھل جائے اور گریز اور فرار اختیار نہ کریں یا يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ الله کا مصداق نہ بن جائیں اور میں تو یا حضرت !! اس عظیم الشان بحث کے لئے حاضر ہوں۔اور ہر گز تخلف نہ کروں گا۔لَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ وَصَدَّ عَنْ سَبِيْلِ اللہ۔اب میں یا حضرت !! پھر اللہ جَلَّ شَانُہ کی آپ کو قسم دے کر اس بحث کے جلد سوم