حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 253
حیات احمد ۲۵۳ سے کرو، رونا آیا ، کیسا زمانہ آ گیا کہ آج کل کے اکثر علماء فتنہ ڈالنے کے لئے تو آگے اور اصلاح کے کاموں میں پیچھے ہٹتے ہیں۔اگر ایسے نازک وقت میں آپ اپنی وسیع معلومات سے مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچائیں گے تو کیا وہ معلومات آپ قبر میں لے جائیں گے؟ آپ بقول بٹالوی صاحب شیخ الکل ہیں۔شیخ الکل ہونے کا دعوی کچھ چھوٹا دعویٰ نہیں۔گویا آپ سارے جہان کے مقتداء ہیں اور بٹالوی اور عبدالمجید جیسے آپ کے ہزاروں شاگرد ہوں گے۔اگر بٹالوی صاحب کو ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ ساکت کر دیا جائے تو اس کا کیا اثر ہو گا۔وہ شیخ الکل تو نہیں۔غرض دنیا کی آپ پر نظر ہے یقیناً سمجھو کہ اگر آپ نے اس بارے میں بذات خود بحث نہ کی تو خدا تعالیٰ سے ضرور پوچھے جاؤ گے۔لب بام کی حالت ہے، خدا تعالیٰ سے ڈرو۔سفر آخرت بہت نزدیک ہے۔اگر حق کو چھپاؤ گے تو رب منتقم کے اخذ شدید سے ہرگز نہیں بچو گے۔آپ کو بٹالوی شیخ کے منصوبوں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔وہ حضرت اس فطرت کے ہی آدمی نہیں کہ جو آپ کو محض اللہ بحث کرنے کے لئے صلاح دیویں۔ہاں ایسے کام ان کو بخوبی آتے ہیں کہ فرضی طور پر ادھر اُدھر مشہور کر دیا اور اپنے دوستوں کو بھی خبریں پہنچا دیں کہ ہم نے فتح پائی۔ہم سے گریز کی۔تاریخ مقررہ پر نہ آئے۔حیا شعبہ ایمان ہے۔اگر بٹالوی صاحب کو دیانت اور راست بازی کا کچھ خیال ہوتا تو ایسی دروغ بے فروغ باتیں مشہور نہ کرتے۔یہ کس قدر مکر و فریب اور چالا کی ہے کہ سراسر بدنیتی سے ایک یکطرفہ اشتہار جاری کر دیا اور محض فرضی طور پر مشتہر کر دیا کہ فلاں تاریخ میں بحث ہوگی۔اگر نیت نیک ہوتی تو چاہئے تھا کہ مجھ سے اتفاق کر کے یعنی میری اتفاق رائے سے تاریخ بحث مقرر کی جاتی تاکہ میں اپنے خانگی حفظ امن کے لئے انتظام کر لیتا اور جس تاریخ میں حاضر ہو سکتا اُسی تاریخ کو منظور کرتا اور نیز چاہئے تھا کہ پہلے امر قابل بحث صفائی سے طے ہو لیتا غرض ضروری تھا کہ جیسا کہ مناظرات کے لئے دستور ہے فریقین کی اتفاق رائے اور دونوں فریق کے دستخط ہونے کے بعد اشتہار جلد سوم