حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 252 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 252

حیات احمد ۲۵۲ جلد سوم متصل پیش نہ کر سکے تو آپ کو بھی اپنے اس انکار شدید سے تو بہ کرنی پڑے گی۔وَاللَّهُ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ۔اب میں یا حضرت ! ! آپ کو اُس رب جلیل تعالی و تقدس کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو پیدا کر کے اپنی بے شمار نعمتوں سے ممنون فرمایا کہ اگر آپ کا یہی مذہب ہے کہ قرآن کریم میں مسیح ابن مریم کی زندگی کے بارے میں آیات صریحہ بینه قطعية الدلالت موجود ہیں اور ان کی تائید میں احادیث صحیحه مرفوعہ متصلہ اپنے منطوق سے شہادت دیتی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو میرے الہامی دعوی کی نسبت مومنانہ حسن ظن کو الوداع کہہ کر سخت انکار کرنا پڑا تو اس خداوند کریم سے ڈر کر جس کی میں نے ابھی آپ کو قسم دی ہے میرے ساتھ إِظْهَارًا لِلْحَقِّ بحث کیجئے۔آپ کو اس بحث میں کچھ بھی تکلیف نہیں ہوگی۔اگر کوئی عدالت گورنمنٹ برطانیہ کی کسی دنیوی مقدمہ میں آپ سے کسی امر میں اظہار لینا چاہے تو آپ جس قدر عدالت چاہے ایک مبسوط بیان لکھوا سکتے ہیں بلکہ بلا توقف تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جائیں گے۔اور بڑی شد ومد سے اظہار دیں گے۔ماشاء اللہ درسِ قرآن و حدیث روز جاری ہے۔آواز بلند ہے۔طاقتیں قائم ہیں۔اور آپ کو بوجہ تو غل زمانہ دراز کے احادیث نبویہ و قرآن کریم حفظ کی طرح یاد ہیں۔کوئی محنت اور فکر سوچ کا کام نہیں۔تو پھر خدا تعالیٰ کی عدالت سے کیوں نہیں ڈرتے اور سچی شہادت کو کیوں پیٹ میں دبائے بیٹھے ہیں اور کیوں کچے عذر اور حیلے بہانے کر رہے ہیں کہ بحث کرنے سے مجبور ہوں۔شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالمجید میری طرف سے بحث کریں گے۔حضرت مجھے آپ کا وہ خط دیکھ کر کہ میں بحث کرنا نہیں چاہتا، دوسروں ☆ مخط۔بمطالعہ گرامی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔بعد سلام مسنون۔آپ کے خط دیروزہ کا جواب میری طرف سے میرے تلامذہ مولوی عبدالمجید صاحب اور مولوی ابو سعید محمد حسین دیں گے۔آئندہ آپ مجھے اپنے جواب سے معاف رکھیں جو کچھ کہنا ہو انہیں سے کہیں اور ان ہی سے جواب لیں۔م سید محمد نذیر حسین۔۱۳ / اکتوبر ۹۱ء۔