حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 251
حیات احمد ۲۵۱ رسول اور یہ بداہت باطل ہے۔کیونکہ قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ بجسده العنصری آسمان پر اٹھائے گئے اور پھر کسی وقت آسمان پر سے زمین پر تشریف لا ئیں گے۔اور ان کا فوت ہو جانا مخالف نصوص قرآنیہ و احادیث صحیحہ ہے۔سو چونکہ آپ نے مجھے اس دعوی میں مخالف قرآن و حدیث قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے ہزار ہا مسلمانوں میں بدظنی کا فتنہ برپا ہو گیا ہے۔لہذا آپ پر فرض ہے کہ مجھ سے اس بات کا تصفیہ کر لیں کہ آیا ایسا عقیدہ رکھنے میں میں نے قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا ہے یا آپ ہی چھوڑ بیٹھے ہیں اور اس قدر تو خود میں مانتا ہوں کہ اگر میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا مخالف نصوص بینہ قرآن و حدیث ہے اور دراصل حضرت عیسی ابن مریم آسمان پر زندہ بجسده العنصری موجود ہیں جو پھر کسی وقت زمین پر اُتریں گے تو گو یہ میرا دعویٰ ہزار الہام سے مؤید اور تائید یافتہ ہو اور گو نہ صرف ایک نشان بلکہ لاکھ آسمانی نشان اس کی تائید میں دکھاؤں تا ہم وہ سب بیچ ہیں کیونکہ کوئی امر اور کوئی دعوئی اور کوئی نشان مخالف قرآن اور احادیث صحیحہ مرفوعہ ہونے کی حالت میں قابل قبول نہیں۔اور صرف اس قدر مانتا ہوں بلکہ اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر آپ یا حضرت !! ایک جلسہ بحث مقرر کر کے میرے دلائل پیش کردہ جو صرف قرآن اور احادیث صحیحہ کی رو سے بیان کروں گا توڑ دیں اور ان سے بہتر دلائل حیات مسیح ابن مریم پر پیش کریں اور آیات صریحہ بینہ قطعية الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا بجسده العنصری زندہ ہونا ثابت کر دیں تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا اور تمام کتابیں جو اس مسئلہ کے متعلق تالیف کی ہیں جس قدر میرے گھر میں موجود ہیں سب جلا دوں گا اور بذریعہ اخبارات اپنی تو بہ اور رجوع کے بارے میں عام اطلاع دوں گا۔وَلَعْنَتُ اللَّهِ عَلى كَاذِبِ يَخْفَى فِي قَلْبِهِ مَايُخَالِفُ بَيَانَ لِسَانِهِ۔مگر یہ بھی یادر کھیئے کہ اگر آپ ہی مغلوب ہو گئے اور کوئی صَرِيحَةُ الدَّلالت آیت اور حدیث صحیح مرفوع جلد سوم