حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 237 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 237

حیات احمد ۲۳۷ کرے اور پھر اس کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کا آنا بھی ضرور ہو۔کیا وہ خود مہدی نہیں ہے؟ کیا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا۔کیا اس کے پاس اس قدر جواہرات و خزائن و اموال و معارف و دقائق نہیں ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں۔اور اس قدر ان کا دامن بھر جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے۔پس اگر یہ سچ ہے تو اُس وقت دوسرے مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف امامین موصوفین کا ہی مذہب نہیں بلکہ ابن ماجہ اور حاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ لَا مَهْدِى إِلَّا عيسى یعنی بجر عیسی کے اس وقت کوئی مہدی نہ ہو گا۔اور یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو۔لیکن جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔چنانچہ یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں اکثر محقق یہی رائے ظاہر کرتے آئے ہیں۔سفر دہلی جلد سوم (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۹،۳۷۸) اگست اور ستمبر ۱۸۹۱ ء میں لودھانہ کے قیام کے دوران میں جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے آپ از بس مصروف رہے اور مختلف اشتہارات اور خطوط اتمام حجت کے لئے لکھے گئے۔اور آخر ستمبر میں آپ نے مناسب سمجھا کہ دہلی جو ہندوستان کے علماء کا مرکز ہے۔وہاں ہی شیخ الکل مولوی نذیرحسین صاحب تھے ( جن کے شاگرد ہندوستان اور ہندوستان سے باہر پھیلے ہوئے تھے مولوی محمد حسین صاحب بھی اُن کے ہی مایہ ناز شاگرد تھے ) چل کر اتمام حجت کیا جاوے اور شیخ الکل ہی کو مخاطب کرنا مناسب ہو گا۔اس مقصد اور ارادے سے آپ نے دہلی کا