حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 236
حیات احمد ۲۳۶ جلد سوم دعوی کے بعد جہاں مخالفت کا ایک طوفان اٹھا وہاں سعادت مند روحوں میں قبولیت کے لئے ایک رو چل پڑی۔دعوی مهدویت ازالہ اوہام کی تصنیف کے دوران میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس حقیقت کو بھی منکشف فرمایا کہ مہدی معہود کا جو عقیدہ مسلمانوں میں چلا آتا ہے۔دراصل مسیح موعود اور مہدی معہود ایک ہی ہے۔جو اپنے فرائض کے لئے عیسی اور مہدی کہلائے گا۔چنانچہ آپ نے ازالہ اوہام میں تحریر فرمایا۔ایسا ہی مہدی کے بارہ میں جو بیان کیا جاتا ہے ضرور ہے کہ پہلے امام محمد مہدی آویں اور اس کے بعد ظہور مسیح ابن مریم کا ہو۔یہ خیال قلت تذبر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غَيْر مُنفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگ شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنی صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ ھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعوی کر کے بتلا دیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا۔لیکن امام محمد مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غَیر مُنفَك ٹھہرا رہی ہیں اور دراصل یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم ہوتا ہے کہ باوجود یکہ ایک ایسی شان کا آدمی ہو کہ جس کو باعتبار باطنی رنگ اور خاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا چاہئے۔دنیا میں ظہور