حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 235 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 235

حیات احمد ۲۳۵ جلد سوم تھے۔اس وقت اس روٹی کا حوالہ دیا مگر مولوی نظام الدین خدا کے فضل سے ایسا بودا اور ضعیف الایمان تھوڑا ہی تھا کہ روٹی کے احسان میں دب جاتا۔ہاتھ جوڑ کر ظرافت سے مولوی نظام الدین کہنے لگے کہ مولوی صاحب میں نے قرآن شریف چھوڑا، روٹی مت چھوڑا ؤ۔اس بات کے کہنے سے محمد حسین شرمندہ ہوا۔اور کہا جا بیٹھ جا، مرزا کے پاس مت جانا۔حضرت اقدس علیہ السلام مولوی نظام الدین مرحوم کی اس ظرافت اور لطیفہ کو اکثر بیان کرتے تھے۔اور حضرت اقدس کا ہاتھ جوڑ کر مولوی نظام الدین کی نقل بیان کرنا ایسا پیارا معلوم ہوتا تھا کہ دل کو لبھا لیتا تھا اور جب مولوی نظام الدین حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ضرور اُن سے یہ بیان کرواتے کہ مولوی صاحب ! کیوں کر یہ معاملہ گزرا۔مولوی نظام الدین اسی طرح سے ہاتھ جوڑ کر بیان کرتے اور ہنستے اور حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہنستے۔بالآخر مولوی نظام الدین وہاں سے چلے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں آ کر اور شرمندہ سے ہو کر بیٹھ گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا مولوی صاحب ہیں آیت انیس آیت دس پانچ دو چار ایک آیت لائے۔مولوی نظام الدین صاحب مرحوم خاموش۔دو چار بار کے دریافت کرنے سے رو کر عرض کیا کہ حضرت وہاں تو یہ معاملہ گزرا۔میری روٹی ہی بند کر دی۔اب تو جد ہر قرآن شریف اُدھر میں۔پھر مولوی صاحب نے بیعت کر لی۔ان کا بیعت کرنا تھا اور مولویوں میں ایک شور مچنا تھا۔توضیح مرام اور ازالہ اوہام کی تصنیف اسی سال میں فتح اسلام کے سلسلہ میں تو ضیح مرام اور از الته الا وہام دو عظیم الشان تصنیفات شائع ہوئیں اور ان میں قرآن کریم کے حقائق و معارف کا ایک سمندر موجیں مارتا نظر آتا ہے۔ازالۃ الا وہام میں ان تمام شکوک اور شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو دعویٰ مسیحیت یا وفات مسیح کے مسئلہ پر پیش کئے جاتے تھے اور یہ کتاب آج تک لا جواب چلی جاتی ہے۔غرض یہ ہے کہ اس