حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 233
حیات احمد ۲۳۳ جلد سوم صاحب اور دیگر اور صحاب اور خاکسار حاضر تھے۔آتے ہی کہا کہ مرزا جی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ عیسی علیہ السلام مر گئے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ قرآن شریف ہے۔مولوی نظام الدین مرحوم نے کہا کہ اگر قرآن شریف میں حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کی آیت موجود ہو تو آپ مان لیں گے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں ہم مان لیں گے۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں ایک دو نہیں ہیں آیتیں قرآن شریف کی حضرت عیسی کی زندگی پر لا دوں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہمیں آیت کیا اگر تم ایک ہی آیت لا دو گے تو میں قبول اور تسلیم کر لوں گا۔اور اپنا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا چھوڑ دوں گا اور توبہ کرلوں گا۔فرمایا۔مولوی صاحب یادر ہے تم کو یا کسی کو ایک آیت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں نہیں ملے گی۔مولوی نظام الدین نے کہا پگے رہنا، تم ایک ہی کہتے ہو میں ہیں آیتیں ابھی لا کے دیتا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا اگر تم نے ایک آیت بھی لا دی تو میں ہار گیا اور تم جیت گئے اب عباس علی کو کھٹکا ہوا اور مجھ سے چپکے سے کہنے لگا کہ مرزا صاحب کیوں اڑتے ہیں۔اُدھر بھی تو مولوی ہیں۔وہ کیا جھوٹ بولتے ہیں اگر آیت مسیح کی زندگی میں نکل آئے تو ہمیں منہ دکھانے کی جگہ نہ ہو گی۔میں نے کہا عباس علی صاحب ہر گز بھی حضرت مسیح کی زندگی کی کوئی آیت نہیں ہے۔کیا یہ تحدی حضرت اقدس کی یونہی ہے اگر حضرت مسیح کی زندگی کی کوئی آیت قرآن شریف میں ہوتی تو اتنے مولوی دنیا میں موجود ہیں اور خاص کر لدھیانہ میں مولوی ہیں وہ کبھی کے پیش کر دیتے۔اُن کا پیش نہ کرنا اور زبانی باتیں کرنا اور دعویٰ کرنا ہی بتلاتا ہے کہ کوئی آیت حیات مسیح کے بارے میں نہیں ہے۔بس مولوی نظام الدین چادرہ اور جو تہ اور دو پٹہ وہیں چھوڑ کر برہنہ پا دوڑتے ہوئے۔اُن مولویوں کے پاس گئے اور کہا کہ میں مرزا صاحب کو ہرا آیا ہوں اور تو بہ کرا آیا ہوں۔مولوی صاحبان اس بات کو سن کر خوش ہوئے اور کہا کس طرح سے مولوی صاحب مرزا کو ہرا آئے۔شاباش شاباش تم نے اس وقت بڑا کام کیا ہے۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں نہیں آیتوں کا وعدہ کر آیا ہوں کہ قرآن شریف کی حضرت عیسی کی زندگی