حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 229
حیات احمد ۲۲۹ جلد سوم کرتے تھے اور کسی پہلو چین نہ پڑتا اور بار بار کہتے کہ اتنے روز جو میری طرف سے مخالفت ہوئی یا میری زبان سے الفاظ گستاخانہ نکلے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا۔پھر استغفار کرتے اور سخت بے قراری اور ندامت سے روتے جب حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لاتے تو تب مولوی صاحب کو چین ہوتا اور دل کو تسلی ہوتی۔مولوی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں ملازم تھے وہاں سے خط آیا کہ جلد آؤ ورنہ نام کٹ جائے گا اور ملازمت جاتی رہے گی۔مولوی صاحب نے ملازمت کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔اور کہا کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی بیعت میں شرط لی ہے۔مجھے نوکری کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام کی صحبت کو غنیمت سمجھا اور ایک روز یہ ذکر آ گیا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے کہا خود ملازمت کو چھوڑنا نہیں چاہئے اس میں اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔ہاں خود بخود ہی اللہ تعالیٰ اپنی کسی خاص مصلحت سے علیحدہ کر دے تو بات دوسری ہے۔ضرو ر ملازمت پر چلے جانا چاہئے۔پھر رخصت لے کر آ جانا۔کوئی اور راہ اللہ تعالیٰ نکال دے گا۔حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ ارشادسن کر مولوی صاحب بِإِكْرَاهِ وَ جَبَر چلنے کے لئے تیار ہو گئے۔اور دوبارہ بیعت تجدید کی کیونکہ ایک دو روز پیشتر ایک شخص نے سوال کیا تھا کہ حضور ایک بار تو ہم نے بیعت کر لی۔کیا دوبارہ سہ بارہ بھی بیعت کر سکتے ہیں۔فرمایا ہاں سنت ہے۔جب وہ رخصت ہو کر چلنے لگے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا دل جانے کو نہیں چاہتا دیکھو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے یہ معنے ہیں۔پس مولوی صاحب چل دیئے اور کچھ دیر کے بعد دیکھیں تو مولوی صاحب مسکراتے ہوئے خوش خوش بغل میں گٹھڑی دبائے ہوئے چلے آتے ہیں۔ہم سب حیران ہوئے اور حضرت اقدس بھی دیکھ کر ہنسنے لگے۔مولوی صاحب نے کہا میرے جاتے جاتے ریل چل دی بعض لوگوں نے کہا بھی کہ اسٹیشن پر ٹھہرو دوسرے وقت چلے جانا۔میں نے کہا جتنی دیر اسٹیشن پر لگے اتنی دیر حضرت کی صحبت میں رہوں تو بہتر ہے۔اسٹیشن پر شہر نے سے کیا فائدہ۔اور جب اللہ تعالیٰ نے ہی جانا پسند نہ فرمایا تو میں کیسے