حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 223
حیات احمد ۲۲۳ جلد سوم مَرْحَبًا صَلِّ عَلَى چاروں طرف سے شور اٹھا۔اس وعظ میں لودھیانہ کے تمام مولوی موجود تھے اور ان کے حسن بیان اور علم کی بار بار داد دیتے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی شاہدین اور مولوی عبدالعزیز اور مولوی محمد اور مولوی عبد اللہ اور دو چار اور مولوی جو بیرون جات سے مولوی غلام نبی صاحب کے علم کی شہرت اور علمی لیاقت اور خدا داد قابلیت کے شوق میں آئے ہوئے تھے حاضر تھے۔کیوں کہ یہ خاص وعظ تھا۔یہ سب نعرے اور شورِ مَرْحَبًا ہمارے کانوں تک پہنچ رہا تھا۔اور ہم پانچ چار آدمی چپکے چپکے بیٹھے تھے اور دل اندر سے کڑھتا تھا اور کچھ ہمارا بس نہ چلتا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام زنانہ میں تھے اور کتاب ازالہ اوہام کا مسودہ تیار کر رہے تھے۔مولوی صاحب وعظ کہہ کر اور پوری مخالفت کا زور لگا کر چلے اور ساتھ ساتھ ایک جم غفیر اور اور مولوی صاحبان تھے۔اور ادھر سے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام زنانہ مکان سے باہر مردانہ مکان میں جانے کے لئے نکلے تو مولوی صاحب سے مٹھ بھیڑ ہو گئی۔اور خود حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور مولوی صاحب نے وعلیکم السلام جواب میں کہہ کر مصافحہ کیا۔خدا جانے اس مصافحہ میں کیا برقی قوت تھی اور کیسی مقناطیسی طاقت ، کیا روحانی کشش تھی کہ یہ اللہ سے ہاتھ ملاتے ہی مولوی صاحب ایسے از خود رفتہ ہوئے کہ کچھ چون و چرا نہ کر سکے۔اور سیدھے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مردانہ مکان میں چلے آئے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے دوزانو بیٹھ گئے۔اور باہر مولوی اور تمام حاضرین وعظ حیرت میں کھڑے رہ گئے اور آپس میں یہ گفتگو ہونے لگی۔ایک ارے میاں یہ کیا ہوا۔اور مولوی صاحب نے یہ کیا حماقت کی کہ مرزا صاحب کے ساتھ ساتھ چلے گئے۔دوسرا۔مرزا جادو گر ہے۔خبر نہیں کیا جادو کر دیا ہو گا ساتھ جانا مناسب نہیں تھا۔تیسرا مولوی صاحب دب گئے۔مرزا کا رعب بڑا ہے رعب میں آ گیا۔چوتھا اجی مرزا صاحب نے جو اتنا بڑا دعویٰ کیا ہے۔مرزا خالی نہیں ہے۔کیا یہ دعوی ایسے ویسے کا ہے۔پانچواں