حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 217
حیات احمد ۲۱۷ جلد سوم حقیقت کو بیان کر دیا تھا کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا لیکن یہ راز مخفی رہا جب تک وہ وجود ظاہر نہ ہوا جس کے لئے مقد رتھا کہ وہ صلیب کو پاش پاش کرے گا چنانچہ حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کو جس الہام کی بناء پر مثیل مسیح فرمایا گیا اسی میں مسیح ابن مریم کی وفات کا بھی ذکر آیا جیسا کہ قارئین کرام پڑھ چکے ہیں۔اور اسی لئے حضرت مسیح موعود اپنے دعوئی میسحیت کی بنیاد وفات مسیح کے مسئلہ پر رکھتے تھے اور اس مسئلہ پر مباحثہ کرنے کی کسی کو ہمت نہ ہوتی تھی۔لودھانہ کے مباحثہ میں بھی مولوی محمد حسین اس طرف نہ آئے اور آپ نے ازالہ اوہام میں قرآن کریم کی تنیس آیات سے وفات مسیح کو ثابت کیا مگر اسی پر اکتفا نہ کر کے آپ نے ایک علمی چیلنج مخالف الرائے علمائے اسلام کے سامنے پیش کیا اور اس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی پیش کیا۔یہ چیلنج لفظ توفی کے متعلق ہے۔توقی کے متعلق چیلنج اس چیلنج پر ساٹھ سال سے زیادہ گزرتے ہیں اور تمام عالم اسلامی میں کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اس کو قبول کرتا اور جواب دیتا۔اور وہ چیلنج یہ ہے۔توفی کے لفظ کی نسبت اور نیز الہ قال کے بارے میں ہزار روپے کا اشتہار تمام مسلمانوں پر واضح ہو کہ کمال صفات سے قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو گیا ہے کہ در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیہا برطبق آیت قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ * زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی سولہ آیتوں اور بہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لئے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اور نہ حقیقی اور واقعی طور الاعراف : ٢٦