حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 216 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 216

حیات احمد ۲۱۶ جلد سوم کی وجہ سے زبان میں لکنت بھی ہوتی ہے لیکن جب کوئی عیسائی ملتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غضبی قوت بالکل اس سے مسلوب ہے نرمی سے کلام کرتا ہے اور بردباری سے بولتا ہے۔لہذا مجھے ان لوگوں پر نہایت ہی رحم آیا۔ہمارا ان لوگوں سے جھگڑا ہی کیا ہے فقط ایک مسیح کے زندہ نہ ہونے کا۔ایک ذرہ سی بات ہے جس کے طے ہونے سے یہ لوگ بھائیوں کی طرح ہم سے آ ملیں گے اور یورپ اور ایشیا میں اسلام ہی اسلام ہو جائے گا۔لہذا میں نہایت ادب اور عاجزی سے پادری صاحبوں کی خدمت میں یہ ہد یہ اشتہار روانہ کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکے ہیں۔اور اس قدر ثبوت میرے پاس ہیں کہ کسی منصف کو بجز ماننے کے چارہ نہیں۔سو میں امید کرتا ہوں کہ پادری صاحبان اس بارہ میں مجھ سے گفتگو کر کے میرے نافہم بھائیوں کو اس سے فائدہ پہنچاویں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ پادری صاحبان کی گفتگو اظہار حق کے لئے نہایت مفید ہوگی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ــهر مرزا غلام احمد قادیانی۔لودیانہ ۲۰ مئی ۱۸۹۱ء دبد به اقبال ربّی پریس لود یا نه علمائے اسلام پر ایک دائمی اتمام حجت ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۸۸ تا ۲۰۰ طبع بار دوم ) حضرت مسیح موعود کی بعثت میں پہلا کام گسر صلیب کا تھا۔اور اس سے پہلے یہ مراد نہ تھی کہ وہ لکڑی کی بنائی ہوئی صلیبوں کو پاش پاش کرتا پھرے گا بلکہ اس کے پیچھے یہ حقیقت تھی کہ عیسائی مذہب کی بنیاد جو صلیب پر قائم ہے اُسے پاش پاش کرے گا۔صلیب پر عیسائی مذہب کی بنیاد کا یہ راز ہے کہ حضرت مسیح کی صلیبی موت کو وہ اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور قرآنِ مجید نے اس