حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 215
حیات احمد ۲۱۵ ستون ٹوٹ جائے تو اس خیال باطل کے دور ہو جانے سے صفحہ ء دنیا یکلخت مخلوق پرستی سے پاک ہو جائے۔اور تمام یورپ اور ایشیا اور امریکہ ایک ہی مذہب توحید میں داخل ہو کر بھائیوں کی طرح زندگی بسر کریں لیکن میں نے حال کے مسلمان مولویوں کو خوب آزما لیا وہ اس ستون کے ٹوٹ جانے سے سخت ناراض ہیں اور در پردہ مخلوق پرستی کے مؤید ہیں۔میں نے ان کو خدا تعالیٰ کا حکم سنا دیا لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔اب میں اس دعوت کو لے کر اس ہد یہ طیبہ کے پیش کرنے کی غرض سے عیسائی صاحبوں کی طرف رُخ کرتا ہوں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس سختی سے مسلمانوں نے میرے ساتھ برتاؤ کیا وہ نہیں کریں گے۔کیونکہ ان میں وہ تہذیب ہے جو عدل گستر گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے قوانین کے ذریعہ سے مہذب لوگوں کو سکھلائی ہے۔اور ان میں وہ ادب ہے جو ایک باوقار سوسائٹی نے نمایاں آثار کے ساتھ دلوں میں قائم کیا ہے۔سو مجھے اللہ جل شانہ کا شکر کرنا چاہئے اور بعد اس کے اس مصدر فیض گورنمنٹ کا بھی جس کے ظل حمایت میں ہم خوشی اور آزادی کے ساتھ گورنمنٹ کی ایسی رعیت کے ساتھ بھی مذہبی بحث کر سکتے ہیں اور خود پادری صاحبان خلق اور بردباری اور رفق اور نرمی میں ہمارے ان مولوی صاحبوں سے ایسی سبقت لے گئے ہیں کہ ہمیں موازنہ کرتے وقت شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔اور ہمیشہ اپنے ان مولویوں سے بحث کے وقت یہی خطرہ اور دھڑ کا رہتا ہے کہ بات کرتے وقت کہیں لاٹھی بھی نہ چلا دیں۔مگر میرے اس قول سے وہ شریف لوگ مستثنی ہیں جن کے سینوں میں خدا تعالیٰ نے صفائی بخشی ہے، لیکن اکثر تو ایسے ہی ہیں جن پر صِفَاتِ سَبْعِيَّه غالب ہیں۔میں اس شہر میں قریباً ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب کوئی مسلمان مخالف ملنے کے لئے آتا ہے تو اس کے چہرہ پر ایک درندگی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔گو یا خون ٹپکتا ہے۔ہر دم غصہ سے نیلا پیلا ہوتا جاتا ہے۔سخت اشتعال جلد سوم