حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 213 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 213

حیات احمد ۲۱۳ جلد سوم حضرت کو مخالف الرائے علماء نے اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے اور آئے دن مخالفانہ تقریریں اور اشتہار نکلتے ہیں۔مگر حضرت اقدس تو من آن نیم کہ تغافل ز کار خود بکنم “ کے صحیح مصداق تھے۔آپ نے عیسائیوں پر اتمام حجت کرنے کے لئے ایک اعلان شائع کیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَامِدًا وَمُصَلِّيًا اشتہار بمقابل پادری صاحبان ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَإِنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَالَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا さ هُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ خدا تعالیٰ ان آیات مندرجہ عنوان میں حضرت مسیح ابن مریم اور ان تمام انسانوں کو جو محض باطل اور ناحق کے طور پر معبود قرار دیئے گئے تھے مار چکا۔در حقیقت بقیہ حاشیہ۔جواب کرتے ہیں اور میں بھی ان کے مذہب کے متعلق سوال کرتا ہوں یہ اس کو بند کر دیں آپ ہی لوگ رک جاویں گے افسر متعینہ میرے اس جواب پر بے اختیار ہنس پڑا۔اور پادری صاحب سے کہا جب آپ لوگوں کو بلاتے ہیں تو ہر شخص جا سکتا ہے ہم کسی کو روک نہیں سکتے۔بہر حال نور افشاں کا ایک ایڈیٹرحسن علی سفیر نامی آیا۔وہ ایک ، ساٹھ سال کے قریب کا خوش بیان شاعر اور محرر تھا۔اس کے متعلق ایک مضمون منشور محمدی میں شائع ہوا۔میں وہ پرچہ لے کر اُن کے پاس گیا اور پوچھا جس سفیر صاحب کا ذکر اس میں ہے وہ آپ ہیں یا کوئی دوسرا ہے وہ بہت محجوب ہوئے اور کہا۔” صاحبزادہ آپ کو اخبار پڑھنے کا شوق ہے۔یہاں میرے پاس بہت اخبار آتے ہیں لے جایا کریں۔اس طرح پر ان سے بے تکلفی ہو گئی اور میں نے ایک سوال ان کو شائع کرنے کے لئے دیا کہ کیا تو حید ماننے والوں کی نجات ہوگی یا نہیں؟ اگر نہیں تو پہلی امتوں کا کیا حال جو تو حید کے قائل تھے اور اگر ہو لى المائدة : ۸۳ - الصفت : ۳۶ ۳ سورة النحل: ۲۲،۲۱