حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 208
حیات احمد ۲۰۸ ہوتا اور اس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہتے ہیں۔سو پہلے یہ ضروری ہے کہ فتویٰ لکھا جاوے اور اس فتوے پر ان تینوں مولوی صاحبان کے دستخط ہوں جن کا ذکر میں لکھ چکا ہوں۔جس وقت وہ استفتاء مصدقہ بمواہیر علماء میرے پاس پہنچے تو پھر حضرات غزنوی مجھے امرتسر پہنچا سمجھ لیں۔ماسوا اس کے یہ بھی دریافت طلب ہے کہ مباہلہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں منجانب اللہ تجویز کیا گیا تھا وہ کفار نصاری کی ایک جماعت کے ساتھ تھا جو نجران کے معزز اور مشہور نصرانی تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مباہلہ جو ایک مسنون امر ہے اس میں ایک فریق کا کا فریا ظالم کس کو خیال کیا گیا ہے اور نیز یہ بھی دریافت طلب ہے کہ جیسا کہ نجران کے نصارے کی ایک جماعت تھی۔آپ کی کوئی جماعت ہے یا صرف اکیلے میاں عبدالحق صاحب قلم چلا رہے ہیں؟ تیسرا یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اس اشتہار کے لکھنے والے در حقیقت کوئی صاحب آپ کی جماعت میں سے ہیں جن کا نام عبدالحق ہے یا یہ فرضی نام ہے۔اور یہ بھی دریافت طلب ہے کہ آپ بھی مباہلین کے گروہ میں داخل ہیں یا کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔اگر داخل نہیں تو کیا وجہ؟ اور پھر وہ کونسی جماعت ہے جن کے ساتھ نِسَاء و ابْنَاء وَ اِخْوَان بھی ہوں گے۔جیسا کہ منشاء آیت کا ہے۔ان تمام امور کا جواب بوالپسی ڈاک ارسال فرما دیں اور نیز یہ سارا خط میاں عبدالحق کو بھی حرف بحرف سُنا دیں۔اور میاں عبدالحق نے اپنے الہام میں جو مجھے جہنمی اور ناری لکھا ہے اس کے جواب میں مجھے کچھ ضرورت لکھنے کی نہیں ہے کیونکہ مباہلہ کے بعد خود ثابت ہو جائے گا کہ اس خطاب کا مصداق کون ہے۔لیکن جہاں تک ہو سکے آپ مباہلہ کے لئے کاغذ استفتاء تیار کر کے مولوی صاحبین موصوفین کی مواہیر ثبت ہونے کے بعد وہ کاغذ میرے پاس بھیج دیں اگر اس میں کچھ توقف کریں گے یا میاں عبد الحق چپ کر کے بیٹھ جائیں گے تو گریز پر حمل کیا جائے گا۔اور واضح رہے کہ اس خط کی جلد سوم