حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 207
حیات احمد ۲۰۷ حدیث صحیح میں گوخلیفہ وقت فاسق ہی ہو بیعت کر لینی چاہئے اور تخلف معصیت ہے پھر انہیں حدیثوں پر نظر ڈال کر دیکھو جو مسیح کی پیشگوئی کے بارہ میں ہیں کہ کس قدر اختلافات سے بھری ہوئی ہیں۔مثلاً صاحب بخاری نے دمشق کی حدیث کو نہیں لیا اور اپنے سکوت سے ظاہر کر دیا کہ اس کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔اور ابن ماجہ نے بجائے دمشق کے بیت المقدس لکھا ہے اور اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان بزرگوں نے باوجود ان اختلافات کثیرہ کے ایک دوسرے سے مباہلہ کی درخواست ہر گز نہیں کی اور ہرگز روا نہیں رکھا کہ ایک دوسرے پر لعنت کریں بلکہ بجائے لعنت کے یہ حدیث سناتے رہے کہ اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ۔اب یہ نئی بات نکلی ہے کہ ایسے اختلافات کے وقت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں اور بددعا اور گالی اور دُشنام کر کے فیصلہ کرنا چاہیں۔ہاں اگر کسی ایک شخص پر سراسر تہمت کی راہ سے کسی فسق اور معصیت کا الزام لگایا جاوے۔جیسا کہ مولوی اسماعیل صاحب سا کن علی گڑھ نے اس عاجز پر لگایا تھا کہ نجوم سے کام لیتے ہیں اور اس کا نام الہام رکھتے ہیں تو مظلوم کو حق پہنچتا ہے کہ مباہلہ کی درخواست کرے۔مگر جزئی اختلافات میں جو ہمیشہ سے علماء وفقراء میں واقع ہوتے رہتے ہیں مباہلہ کی درخواست کرنا یہ غزنوی بزرگوں کا ہی ایجاد ہے۔لیکن اگر علماء ایسے مباہلہ کا فتویٰ دیں تو ہمیں عذر بھی کچھ نہیں کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم اس مُلاعنہ کے طریق سے جس کا نام مباہلہ ہے اجتناب کریں تو یہی اجتناب ہمارے گریز کی وجہ سمجھی جائے اور حضرات غزنوی خوش ہو کر کوئی دوسرا اشتہار عبدالحق کے نام سے چھپوا دیں اور لکھ دیں کہ مباہلہ قبول نہیں کیا اور بھاگ گئے۔لیکن دوسری طرف ہمیں یہ بھی خوف ہے کہ اگر ہم مسلمانوں پر خلاف حکم شرع اور طریق فقر کے لعنت کرنے کے لئے امرتسر پہنچیں تو مولوی صاحبان ہم پر یہ اعتراض کر دیں کہ مسلمانوں پر کیوں لعنتیں کیں اور ان حدیثوں سے کیوں تجاوز کیا جو مومن لعان نہیں جلد سوم