حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 195
حیات احمد ۱۹۵ جلد سوم مولوی صاحب اس دفعہ بھی مرزا صاحب کے اصل دعاوی کی طرف ہرگز نہ گئے۔اگر چہ جیسا کہ سنا گیا ہے اور پایہ ء اثبات کو بھی پہنچ گیا ہے۔مرزا صاحب نے اثناء بحث میں بارہا اپنے دعووں کی طرف مولوی صاحب کو متوجہ کرنے کی سعی کی چونکہ علماء وقت کے سکوت اور بعض بے سود تقریر وتحریر نے مسلمانوں کو علی العموم بڑی حیرت اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے اور اس کے سوا ان کو اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے امامان دین کی طرف رجوع کریں۔لہذا ہم سب لوگ آپ کی خدمت میں نہایت مؤدبانہ اور محض بنظر خیر خواہی برادرانِ اسلام درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس فتنہ وفساد کے وقت میں میدان میں نکلیں اور اپنی خداداد نعمت علم اور فضل سے کام لیں اور خدا کے واسطے مرزا صاحب کے ساتھ اُن کے دعاوی پر بحث کر کے مسلمانوں کو ورطه ۶ تذبذب سے نکالنے کی سعی فرما کر عند الناس وعنداللہ ماجور ہوں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ جن کی ذات پر مسلمانوں کو بھروسہ ہے خاص لا ہور میں مرزا صاحب سے اُن کے دعویٰ میں بالمشافہ تحریری بحث کریں۔مرزا صاحب سے ان کے دعویٰ کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے لیا جاوے یا ان کو اس قسم کے دلائلِ بینہ سے توڑا جاوے ہماری رائے میں مسلمانوں کی تسلی اور رفع تردد کے واسطے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں اگر آپ اس طریق بحث کو منظور فرما دیں اور امید واثق ہے کہ آپ اپنا ایک اہم منصبی فرض یقین کر کے محض ابتغاء لِوَجْهِ الله و برائے خلق اللہ ضرور قبول فرمائیں گے ) تو اطلاع بخشیں تا کہ مرزا صاحب سے بھی اس بارے میں تصفیہ کر کے تاریخ مقرر ہو جاوے۔اور آپ کو لاہور لانے کی تکلیف دی جاوے تمام انتظام متعلقہ قیام امن وغیرہ ہمارے ذمہ ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے گی۔جواب سے جلد سرفراز فرماویں۔والسلام ( مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۹۸ تا ۲۰۳ حاشیه طبع بار دوم )