حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 194
حیات احمد ۱۹۴ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو دعاوی حضرت مسیح عَلَى نَبِيِّنَا وَ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَام کی موت اور خود مسیح موعود ہونے کی نسبت کئے ہیں آپ سے مخفی نہیں۔ان کے دعاوی کی اشاعت اور ہمارے ائمہ دین کی خاموشی نے مسلمانوں کو جس تر ڈ داور اضطراب میں ڈال دیا ہے وہ بھی محتاج بیان نہیں اگر چہ جمہور علماء موجودہ کی بے سود مخالفت اور خود مسلمانوں کے پرانے عقیدہ نے مرزا صاحب کے دعاوی کا اثر عام طور پر نہیں پھیلنے دیا مگر تا ہم اس امر کے بیان کرنے کی بلا خوف تردید جرات کی جاتی ہے کہ اہل اسلام کے قدیمی اعتقاد نسبت حیات و نزول عیسی ابن مریم میں بڑا تزلزل واقع ہو گیا ہے اگر ہمارے پیشوایان دین کا سکوت یا ان کی خارج از بحث تقریر اور تحریر نے کچھ اور طول پکڑا تو احتمال کیا بلکہ یقین کامل ہے کہ اہلِ اسلام علی العموم اپنے پرانے اور مشہور عقیدہ کو خیر باد کہہ دیں گے۔اور پھر اس صورت اور حالت میں حامیان دینِ متین کو سخت مشکل کا سامنا پڑے گا۔ہم لوگوں نے جن کی طرف سے یہ درخواست ہے اپنی تسلی کے لئے خصوصاً اور عامہ اہلِ اسلام کے فائدہ کے لئے عموماً کمال نیک نیتی سے جدو جہد کے بعد ابوسعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مولوی نورالدین صاحب کے ساتھ ( جو مرزا صاحب کے مخلص معتقدین میں سے ہے ) مرزا صاحب کے دعاوی پر گفتگو کرنے کے لئے مجبور کیا تھا مگر نہایت ہی حیرت ہے کہ ہماری بدقسمتی سے ہماری منشاء اور مدعا کے خلاف مولوی ابوسعید صاحب نے مرزا صاحب کے دعووں سے جو اصل مضمون بحث تھا قطع نظر کر کے غیر مفید امور میں بحث شروع کر دی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مترددین کے شبہات کو اور تقویت ہوگئی اور زیادہ تر حیرت میں مبتلا ہو گئے۔اس کے بعد لودھیانہ میں مولوی ابوسعید صاحب کو خود مرزا صاحب سے بحث کرنے کا اتفاق ہوا۔تیرآن روز گفتگو رہی۔اس کا نتیجہ بھی ہمارے خیال میں وہی ہوا جو لا ہور کی بحث سے ہوا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تر مضر۔کیونکہ جلد سوم